Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Khalilur Rahman Azmi's Photo'

خلیل الرحمن اعظمی

1927 - 1978 | علی گڑہ, انڈیا

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں نمایاں

جدید اردو تنقید کے بنیاد سازوں میں نمایاں

خلیل الرحمن اعظمی کے اشعار

16K
Favorite

باعتبار

یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں

زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے

نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی

جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا

بھلا ہوا کہ کوئی اور مل گیا تم سا

وگرنہ ہم بھی کسی دن تمہیں بھلا دیتے

جانے کیوں اک خیال سا آیا

میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی

نکالے گئے اس کے معنی ہزار

عجب چیز تھی اک مری خامشی

تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے

جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی

مری نظر میں وہی موہنی سی مورت ہے

یہ رات ہجر کی ہے پھر بھی خوبصورت ہے

ہم نے تو خود کو بھی مٹا ڈالا

تم نے تو صرف بے وفائی کی

دیکھنے والا کوئی ملے تو دل کے داغ دکھاؤں

یہ نگری اندھوں کی نگری کس کو کیا سمجھاؤں

ہزار طرح کی مے پی ہزار طرح کے زہر

نہ پیاس ہی بجھی اپنی نہ حوصلہ نکلا

کوئی وقت بتلا کہ تجھ سے ملوں

مری دوڑتی بھاگتی زندگی

سنا رہا ہوں انہیں جھوٹ موٹ اک قصہ

کہ ایک شخص محبت میں کامیاب رہا

یوں جی بہل گیا ہے تری یاد سے مگر

تیرا خیال تیرے برابر نہ ہو سکا

ہوتی نہیں ہے یوں ہی ادا یہ نماز عشق

یاں شرط ہے کہ اپنے لہو سے وضو کرو

تم مجھے چاہو نہ چاہو لیکن اتنا تو کرو

جھوٹ ہی کہہ دو کہ جینے کا بہانہ مل سکے

میرے دشمن نہ مجھ کو بھول سکے

ورنہ رکھتا ہے کون کس کو یاد

ہائے وہ لوگ جن کے آنے کا

حشر تک انتظار ہوتا ہے

اب ان بیتے دنوں کو سوچ کر تو ایسا لگتا ہے

کہ خود اپنی محبت جیسے اک جھوٹی کہانی ہو

یہ تمنا نہیں اب داد ہنر دے کوئی

آ کے مجھ کو مرے ہونے کی خبر دے کوئی

دنیا داری تو کیا آتی دامن سینا سیکھ لیا

مرنے کے تھے لاکھ بہانے پھر بھی جینا سیکھ لیا

عارض پہ تیرے میری محبت کی سرخیاں

میری جبیں پہ تیری وفا کا غرور ہے

نہیں اب کوئی خواب ایسا تری صورت جو دکھلائے

بچھڑ کر تجھ سے کس منزل پر ہم تنہا چلے آئے

ہنگامۂ حیات سے جاں بر نہ ہو سکا

یہ دل عجیب دل ہے کہ پتھر نہ ہو سکا

ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی

کوئی خدا کوئی ہم سایۂ خدا نکلا

تمام یادیں مہک رہی ہیں ہر ایک غنچہ کھلا ہوا ہے

زمانہ بیتا مگر گماں ہے کہ آج ہی وہ جدا ہوا ہے

ہم نے خود اپنے آپ زمانے کی سیر کی

ہم نے قبول کی نہ کسی رہنما کی شرط

ازل سے تھا وہ ہمارے وجود کا حصہ

وہ ایک شخص کہ جو ہم پہ مہربان ہوا

ہم سا ملے کوئی تو کہیں اس سے حال دل

ہم بن گئے زمانے میں کیوں اپنی ہی مثال

تیرے نہ ہو سکے تو کسی کے نہ ہو سکے

یہ کاروبار شوق مکرر نہ ہو سکا

کوئی تو بات ہوگی کہ کرنے پڑے ہمیں

اپنے ہی خواب اپنے ہی قدموں سے پائمال

یہیں پر دفن کر دو اس گلی سے اب کہاں جاؤں

کہ میرے پاس جو کچھ تھا یہیں آ کر لٹایا ہے

تری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے

مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے

یہ سچ ہے آج بھی ہے مجھے زندگی عزیز

لیکن جو تم ملو تو یہ سودا گراں نہیں

یہ اور بات کہ ترک وفا پہ مائل ہیں

تری وفا کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے

میں کہاں ہوں کچھ بتا دے زندگی اے زندگی!

پھر صدا اپنی سنا دے زندگی اے زندگی!

اور تو کوئی بتاتا نہیں اس شہر کا حال

اشتہارات ہی دیوار کے پڑھ کر دیکھیں

میں اپنے گھر کو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں

عروج فن مری دہلیز پر اتار مجھے

نہ چاہو تم تو ہر اک گام کتنی دیواریں

جو چاہو تم تو ملن کی ہزار صورت ہے

میرؔ کا طرز اپنایا سب نے لیکن یہ انداز کہاں

اعظمیؔ صاحب آپ کی غزلیں سن سن کر سب حیراں ہیں

دنیا بھر کی رام کہانی کس کس ڈھنگ سے کہہ ڈالی

اپنی کہنے جب بیٹھے تو ایک ایک لفظ پگھلتا تھا

زہر پی کر بھی یہاں کس کو ملی غم سے نجات

ختم ہوتا ہے کہیں سلسلۂ رقص حیات

ہمارے بعد اس مرگ جواں کو کون سمجھے گا

ارادہ ہے کہ اپنا مرثیہ بھی آپ ہی لکھ لیں

ہم پہ جو گزری ہے بس اس کو رقم کرتے ہیں

آپ بیتی کہو یا مرثیہ خوانی کہہ لو

کیوں ہر گھڑی زباں پہ ہو جرم و سزا کا ذکر

کیوں ہر عمل کی فکر میں خوف خدا کی شرط

لاکھ سادہ سہی تیری یہ جبیں کی تحریر

اس سے اکثر مرے افکار کو ملتی ہے زباں

آج ڈوبا ہوا خوشبو میں ہے پیراہن جاں

اے صبا کس نے یہ پوچھا ہے ترا نام و نشاں

تیری گلی سے چھٹ کے نہ جائے اماں ملی

اب کے تو میرا گھر بھی مرا گھر نہ ہو سکا

ہائے اس دست کرم ہی سے ملے جور و جفا

مجھ کو آغاز محبت ہی میں مر جانا تھا

زندگی بھی مرے نالوں کی شناسا نکلی

دل جو ٹوٹا تو مرے گھر میں کوئی شمع جلی

نگاہ مہرباں اٹھتی تو ہے سب کی طرف لیکن

نہیں واقف ابھی سب لوگ رمز آشنائی سے

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے