Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

نامعلوم

نامعلوم کے اشعار

166.9K
Favorite

باعتبار

ہم نے اس کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا

لیکن پھر بھی دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا

زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر

یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے

رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے

اگر فردوس بر روئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

کبھی تیرا در کبھی دربدر کبھی عرش پر کبھی فرش پر

غم عاشقی ترا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

منتظر سب مرے زوال کے ہیں

میرے احباب بھی کمال کے ہیں

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلب

دولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے

تشریح

رخسار یعنی گال، دولتِ حسن یعنی حسن کی دولت، دربان یعنی رکھوالا۔ یہ شعر اپنے مضمون کی ندرت کی وجہ سے زبان زدِ عام ہے۔ شعر میں مرکزی حیثیت ’’رخسار پر تل‘‘ کو حاصل ہے کیونکہ اسی کی مناسبت سے شاعر نے مضمون پیدا کیا ہے۔ محبوب کے رخسار کو دربان(رکھوالا) سے مشابہ کرنا شاعر کا کمال ہے۔ اور جب دولتِ حسن کہا تو گویا محبوب کے سراپا کو آنکھوں کے سامنے لایا۔

رخسار پر تل ہونا حسن کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔ مگر چونکہ محبوب پیکرِ جمال ہے اس خوبی کی مناسبت سے شاعر نے یہ خیال باندھا ہے کہ جس طرح بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے خوبصورت بچوں کے گال پر کالا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اسی طرح میرے محبوب کو لوگوں کی بری نظر سے بچانے کے لئے خدا نے اس کے گال پر تل رکھا ہے۔ اور جس طرح مال و دولت کو لٹیروں سے محفوظ رکھنے کے لئے اس پر دربان (رکھوالے)بٹھائے جاتے ہیں بالکل اسی طرح خدا نے میرے محبوب کے حسن کو بری نظر سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے گال پر تل بنایا ہے۔

شفق سوپوری

پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہم

اتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے

شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے

یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن

بہت اداس بہت بے قرار گزرے گی

یہ تو اک رسم جہاں ہے جو ادا ہوتی ہے

ورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہے

کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا

ہم اگر عشق نہ کرتے تو حکومت کرتے

کئی جوابوں سے اچھی ہے خامشی میری

نہ جانے کتنے سوالوں کی آبرو رکھے

لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیں

میں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیے

روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے

بے پئے ہی شراب سے نفرت

یہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہے

جب تک بکا نہ تھا تو کوئی پوچھتا نہ تھا

تو نے خرید کر مجھے انمول کر دیا

دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی

لیکن تمام عمر کو آرام ہو گیا

جان لینی تھی صاف کہہ دیتے

کیا ضرورت تھی مسکرانے کی

بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھر

پلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پر

حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو

تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں

باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو

کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

کسی کو کیسے بتائیں ضرورتیں اپنی

مدد ملے نہ ملے آبرو تو جاتی ہے

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

عید آئی تم نہ آئے کیا مزا ہے عید کا

عید ہی تو نام ہے اک دوسرے کی دید کا

ہم وہ ہیں جو خدا کو بھول گئے

تو مری جان کس گمان میں ہے

تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیں

کس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیں

وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے

اقربا میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر

مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا

میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائیں میں

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو

تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا

جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

یہ خاموش مزاجی تمہے جینے نہیں دے گی

اس دور میں جینا ہے تو کہرام مچا دو

شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں

دل ہی کافی ہے تری یاد میں جلنے کے لیے

یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیں

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گی

دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال

وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے

خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کی

تمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہو

مل کے ہوتی تھی کبھی عید بھی دیوالی بھی

اب یہ حالت ہے کہ ڈر ڈر کے گلے ملتے ہیں

آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو

پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو

کتابیں بھی بالکل میری طرح ہیں

الفاظ سے بھرپور مگر خاموش

فرشتے حشر میں پوچھیں گے پاک بازوں سے

گناہ کیوں نہ کیے کیا خدا غفور نہ تھا

مری نماز جنازہ پڑھی ہے غیروں نے

مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے

پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا

اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابل

جس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو

تم سمندر کی بات کرتے ہو

لوگ آنکھوں میں ڈوب جاتے ہیں

رفیقوں سے رقیب اچھے جو جل کر نام لیتے ہیں

گلوں سے خار بہتر ہیں جو دامن تھام لیتے ہیں

Recitation

بولیے