واعظ پر اشعار
واعظ کلاسیکی شاعری کا
ایک اہم کردار ہے جو شاعری کے اور دوسرے کرداروں جیسے رند ، ساقی اور عاشق کے مقابل آتا ہے ۔ واعظ انہیں پاکبازی اور پارسائی کی دعوت دیتا ہے ، شراب نوشی سے منع کرتا ہے ، مئے خانے سے ہٹا کر مسجد تک لے جانا چاہتا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں بلکہ اس کا کردار خود دوغلے پن کا شکار ہوتا ہے ۔ وہ بھی چوری چھپے میخانے کی راہ لیتا ہے ۔ انہیں وجوہات کی بنیاد پر واعظ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کا مزاق اڑا جایا جاتا ہے ۔ آپ کو یہ شاعری پسند آئے گی اور اندازہ ہوگا کہ کس طرح سے یہ شاعری سماج میں مذہبی شدت پسندی کو ایک ہموار سطح پر لانے میں مدد گار ثابت ہوئی ۔
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے اس شعر میں واعظ کی ظاہری پرہیزگاری اور باطنی حقیقت پر گہرا طنز کیا ہے۔ شاعر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ واعظ کا مے خانے سے کیا کام، لیکن ساتھ ہی یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ چھپ کر وہاں آتے ہیں۔ اس طرح غالب نے اپنی رندی کا اعتراف کرتے ہوئے واعظ کی ریاکاری کا پردہ چاک کیا ہے۔
-
موضوع : مے کدہ
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے زاہدوں اور ملاؤں کی ظاہری پرہیزگاری پر چوٹ کی ہے۔ ذوقؔ کا کہنا ہے کہ مدرسے نے ان میں تکبر اور تنگ نظری پیدا کر دی ہے، جبکہ مے خانہ (جو محبت اور بے خودی کی علامت ہے) میں آ کر ان کا غرور ٹوٹ جائے گا اور وہ ایک بہتر انسان بن جائیں گے۔
-
موضوع : مے کدہ
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال یہاں واعظ کی ریاکاری پر طنز کرتے ہیں۔ “امیدِ حور” جنت کے لالچ کی علامت ہے جو اس کی دینداری کو خلوص کے بجائے غرض سے چلاتی ہے۔ ظاہر میں سادگی اور باطن میں خود غرضی کا تضاد دکھایا گیا ہے۔ اصل چوٹ اس مذہبی دکھاوے پر ہے جو لوگوں کو دھوکا دیتا ہے۔
کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ
میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
-
موضوع : سچ
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب اس شعر میں واعظ پر گہرا طنز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس جنت کی شراب کا تم وعدہ کرتے ہو، اس کا دنیا میں کوئی وجود نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ غالب کے نزدیک وہ شے بے معنی ہے جو حال میں میسر نہ ہو اور جس سے محفل میں دوستوں کی تواضع نہ کی جا سکے۔
-
موضوع : شراب
جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ
مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے
پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی
دوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کی
-
موضوع : شراب
گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد
یہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے
-
موضوع : جنت
اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ
کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری
-
موضوع : جنت
تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے
ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے
کہتے ہیں جس کو جنت وہ اک جھلک ہے تیری
سب واعظوں کی باقی رنگیں بیانیاں ہیں
مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ
نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل
منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر
جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے
-
موضوع : شراب
آئیں ہیں سمجھانے لوگ
ہیں کتنے دیوانے لوگ
دھوکے سے پلا دی تھی اسے بھی کوئی دو گھونٹ
پہلے سے بہت نرم ہے واعظ کی زباں اب
صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ
بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا
واعظ مے طہور جو پینا ہے خلد میں
عادت ابھی سے ڈال رہا ہوں شراب کی
واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا
-
موضوعات : ساقیاور 1 مزید
نہ واعظ ہجو کر ایک دن دنیا سے جانا ہے
ارے منہ ساقی کوثر کو بھی آخر دکھانا ہے
تشریف لاؤ کوچۂ رنداں میں واعظو
سیدھی سی راہ تم کو بتا دیں نجات کی
مجھے کافر ہی بتاتا ہے یہ واعظ کمبخت
میں نے بندوں میں کئی بار خدا کو دیکھا
نیاز بے خودی بہتر نماز خود نمائی سیں
نہ کر ہم پختہ مغزوں سیں خیال خام اے واعظ
تلخی تمہارے وعظ میں ہے واعظو مگر
دیکھو تو کس مزے کی ہے تلخی شراب میں
واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے
میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا
-
موضوع : مے کدہ
کوئی علاج غم زندگی بتا واعظ
سنے ہوئے جو فسانے ہیں پھر سنا نہ مجھے
کیا مدرسے میں دہر کے الٹی ہوا بہی
واعظ نہی کو امر کہے امر کو نہی
شیخ حرم کا ذکر نہیں ہے مرے ندیم
پیر مغاں کے کشف و کرامت کی بات ہے
-
موضوع : ساقی
پئیں ساقی کے ہاتھوں سے مئے الفت پئیں جب بھی
مرے ناصح بس اتنی پارسائی چاہتے ہیں ہم
-
موضوع : پارسائی
ذکر سے رندوں کے واعظ تو ابھی واقف نہیں
یہ تو ہو حق کی صدا ہے شور رندانہ نہیں
-
موضوع : رند
کچھ نہیں ہے ترے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا
بات ناصح کی ہے لیکن خط تقدیر بھی ہے
محتسب کو بھی ہدایت کروں مے نوشی کی
واعظا تیری جگہ گر سر منبر میں ہوں