Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Jaleel Manikpuri's Photo'

جلیل مانک پوری

1866 - 1946 | حیدر آباد, انڈیا

مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء

مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء

جلیل مانک پوری کے اشعار

218.6K
Favorite

باعتبار

تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا

کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے

تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا

کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں

دل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں

آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے

ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں

آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے

ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں

بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں

اب کی پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے

بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوں

اب کی پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے

بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئی

میں بھی شریک ہوں ترے حال تباہ میں

بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئی

میں بھی شریک ہوں ترے حال تباہ میں

جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے

جب تم چلو زمین چلے آسماں چلے

جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے

جب تم چلو زمین چلے آسماں چلے

روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو

میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

روز وہ خواب میں آتے ہیں گلے ملنے کو

میں جو سوتا ہوں تو جاگ اٹھتی ہے قسمت میری

آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے

لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا

آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے

لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

حسن آفت نہیں تو پھر کیا ہے

تو قیامت نہیں تو پھر کیا ہے

حسن آفت نہیں تو پھر کیا ہے

تو قیامت نہیں تو پھر کیا ہے

سب کچھ ہم ان سے کہہ گئے لیکن یہ اتفاق

کہنے کی تھی جو بات وہی دل میں رہ گئی

سب کچھ ہم ان سے کہہ گئے لیکن یہ اتفاق

کہنے کی تھی جو بات وہی دل میں رہ گئی

کچھ اس ادا سے آپ نے پوچھا مرا مزاج

کہنا پڑا کہ شکر ہے پروردگار کا

کچھ اس ادا سے آپ نے پوچھا مرا مزاج

کہنا پڑا کہ شکر ہے پروردگار کا

مری آہ کا تم اثر دیکھ لینا

وہ آئیں گے تھامے جگر دیکھ لینا

مری آہ کا تم اثر دیکھ لینا

وہ آئیں گے تھامے جگر دیکھ لینا

حسن یہ ہے کہ دل ربا ہو تم

عیب یہ ہے کہ بے وفا ہو تم

حسن یہ ہے کہ دل ربا ہو تم

عیب یہ ہے کہ بے وفا ہو تم

قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول

کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں

قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول

کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں

میں ڈر رہا ہوں تمہاری نشیلی آنکھوں سے

کہ لوٹ لیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے

میں ڈر رہا ہوں تمہاری نشیلی آنکھوں سے

کہ لوٹ لیں نہ کسی روز کچھ پلا کے مجھے

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی

آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار

کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی

آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار

کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی

رات کو سونا نہ سونا سب برابر ہو گیا

تم نہ آئے خواب میں آنکھوں میں خواب آیا تو کیا

رات کو سونا نہ سونا سب برابر ہو گیا

تم نہ آئے خواب میں آنکھوں میں خواب آیا تو کیا

حال تم سن لو مرا دیکھ لو صورت میری

درد وہ چیز نہیں ہے کہ دکھائے کوئی

حال تم سن لو مرا دیکھ لو صورت میری

درد وہ چیز نہیں ہے کہ دکھائے کوئی

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو

جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

ہوتی کہاں ہے دل سے جدا دل کی آرزو

جاتا کہاں ہے شمع کو پروانہ چھوڑ کر

کمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن

وہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے

کمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن

وہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے

Recitation

بولیے