حیا پر اشعار
اردو شاعری کا محبوب
بڑی متضاد صفات سے گندھا ہوا ہے ۔ وہ مغرور بھی ہے اور حیا دار بھی ۔ شرماتا ہے توایسا کہ نظر نہیں اٹھاتا ۔ اس کی شرماہٹ کی دلچسپ صورتوں کو شاعروں نے مبالغہ آمیز انداز میں بیان کیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف اٹھائیے ۔
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
-
موضوع : ادا
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں شاعر زمانے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ لوگوں کی نظر میں حیا باقی نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں وہ مخاطب کے لیے دعا کرتا ہے کہ اس کی جوانی بے داغ رہے اور برائی کے اثر سے بچی رہے۔ “آنکھ” معاشرتی شعور اور “داغ” کردار کی آلودگی کی علامت ہیں۔ جذبہ فکر مندی اور خیر خواہی کا ہے۔
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
-
موضوع : جوانی
عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی
ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے
-
موضوعات : آنکھاور 1 مزید
برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے
ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے
تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلاف
آنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ
پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں
پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو
-
موضوع : آئینہ
شکر پردے ہی میں اس بت کو حیا نے رکھا
ورنہ ایمان گیا ہی تھا خدا نے رکھا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کے حسن کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر حیا محبوب کو پردے میں نہ رکھتی تو اس کا جلوہ دیکھ کر ہمارا ایمان ختم ہو جاتا۔ محبوب کو 'بت' کہہ کر شاعر یہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس کی پرستش کا خطرہ تھا، مگر پردے نے ایمان کی حفاظت کر لی۔
او وصل میں منہ چھپانے والے
یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا
-
موضوع : وصال
کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا
ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا
غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
Interpretation:
Rekhta AI
غالب محبوب کی فطری شرم و حیا کی انتہائی نازک صورتحال بیان کر رہے ہیں۔ محبوب رقیب کی بدتمیزی کو اس لیے نہیں روک پاتا کہ ٹوکنے یا منع کرنے میں بھی اسے شرم آتی ہے، اور اس طرح اس کی خاموشی رقیب کی ہمت بڑھاتی ہے۔
کیا بتاؤں میں کہ تم نے کس کو سونپی ہے حیا
اس لئے سوچا مری خاموشیاں ہی ٹھیک ہیں
-
موضوع : خاموشی