Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حیا پر اشعار

اردو شاعری کا محبوب

بڑی متضاد صفات سے گندھا ہوا ہے ۔ وہ مغرور بھی ہے اور حیا دار بھی ۔ شرماتا ہے توایسا کہ نظر نہیں اٹھاتا ۔ اس کی شرماہٹ کی دلچسپ صورتوں کو شاعروں نے مبالغہ آمیز انداز میں بیان کیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف اٹھائیے ۔

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

اکبر الہ آبادی

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں شاعر زمانے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ لوگوں کی نظر میں حیا باقی نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں وہ مخاطب کے لیے دعا کرتا ہے کہ اس کی جوانی بے داغ رہے اور برائی کے اثر سے بچی رہے۔ “آنکھ” معاشرتی شعور اور “داغ” کردار کی آلودگی کی علامت ہیں۔ جذبہ فکر مندی اور خیر خواہی کا ہے۔

علامہ اقبال

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

امیر مینائی

عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی

ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

اکبر الہ آبادی

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے

دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے

اختر شیرانی

برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے

ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے

حسرتؔ موہانی

تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلاف

آنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ

جلیل مانک پوری

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں

پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

شکیب جلالی

شکر پردے ہی میں اس بت کو حیا نے رکھا

ورنہ ایمان گیا ہی تھا خدا نے رکھا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کے حسن کی شدت کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر حیا محبوب کو پردے میں نہ رکھتی تو اس کا جلوہ دیکھ کر ہمارا ایمان ختم ہو جاتا۔ محبوب کو 'بت' کہہ کر شاعر یہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس کی پرستش کا خطرہ تھا، مگر پردے نے ایمان کی حفاظت کر لی۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

حیا سے حسن کی قیمت دو چند ہوتی ہے

نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے

نامعلوم

او وصل میں منہ چھپانے والے

یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا

حسن بریلوی

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا

بیخود بدایونی

غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے

گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

Interpretation: Rekhta AI

غالب محبوب کی فطری شرم و حیا کی انتہائی نازک صورتحال بیان کر رہے ہیں۔ محبوب رقیب کی بدتمیزی کو اس لیے نہیں روک پاتا کہ ٹوکنے یا منع کرنے میں بھی اسے شرم آتی ہے، اور اس طرح اس کی خاموشی رقیب کی ہمت بڑھاتی ہے۔

مرزا غالب

کیا بتاؤں میں کہ تم نے کس کو سونپی ہے حیا

اس لئے سوچا مری خاموشیاں ہی ٹھیک ہیں

اے آر ساحل علیگ
بولیے