ADVERTISEMENT

وفا پر شعر

وفا پر شاعری بھی زیادہ

تر بے وفائی کی ہی صورتوں کو موضوع بناتی ہے ۔ وفادارعاشق کے علاوہ اور ہے کون ۔ اور یہ وفادار کردار ہر طرف سے بے وفائی کا نشانہ بنتا ہے ۔ یہ شاعری ہم کو وفاداری کی ترغیب بھی دیتی ہے اور بے وفائی کے دکھ جھیلنے والوں کے زخمی احساسات سے واقف بھی کراتی ہے ۔

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

داغؔ دہلوی

انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی

مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی

نشور واحدی

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

احمد فراز

الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو

ہر بات میں لذت ہے اگر دل میں مزا ہو

امیر مینائی
ADVERTISEMENT

بے وفائی پہ تیری جی ہے فدا

قہر ہوتا جو باوفا ہوتا

میر تقی میر

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں

عبرت مچھلی شہری

دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

حفیظ بنارسی

وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا

جسے بت بنایا خدا ہو گیا

حفیظ جالندھری
ADVERTISEMENT

ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا

جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

بشیر بدر

وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی

میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

افتخار عارف

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

جگر مراد آبادی

اڑ گئی یوں وفا زمانے سے

کبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

داغؔ دہلوی
ADVERTISEMENT

بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں

بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

اکبر الہ آبادی

میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا

گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

قتیل شفائی

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں

میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

بہزاد لکھنوی

وفا اخلاص قربانی محبت

اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

جون ایلیا
ADVERTISEMENT

مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا

مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا

حفیظ جالندھری

کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد

یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

امیر مینائی

محبت عداوت وفا بے رخی

کرائے کے گھر تھے بدلتے رہے

بشیر بدر

ہم نے بے انتہا وفا کر کے

بے وفاؤں سے انتقام لیا

آل رضا رضا
ADVERTISEMENT

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

بشیر فاروقی

کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں

اس بے وفا کو بھول نہ جائیں تو کیا کریں

اختر شیرانی

یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا

مری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا

عبد الحمید عدم

یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پاؤں نازک

نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے

خمارؔ بارہ بنکوی
ADVERTISEMENT

کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گا

مجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گا

حسرتؔ موہانی

جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا

بارہا آزما کے دیکھ لیا

داغؔ دہلوی

وہ کہتے ہیں ہر چوٹ پر مسکراؤ

وفا یاد رکھو ستم بھول جاؤ

کلیم عاجز

نہ کریں آپ وفا ہم کو کیا

بے وفا آپ ہی کہلائیے گا

وزیر علی صبا لکھنؤی
ADVERTISEMENT

تری وفا میں ملی آرزوئے موت مجھے

جو موت مل گئی ہوتی تو کوئی بات بھی تھی

خلیل الرحمن اعظمی

امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی

وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا

چراغ حسن حسرت

عشق پابند وفا ہے نہ کہ پابند رسوم

سر جھکانے کو نہیں کہتے ہیں سجدہ کرنا

آسی الدنی

بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت

وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

افتخار عارف
ADVERTISEMENT

وہ امید کیا جس کی ہو انتہا

وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا

الطاف حسین حالی

وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں

وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں

حفیظ بنارسی

کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ

مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

قتیل شفائی

برا مت مان اتنا حوصلہ اچھا نہیں لگتا

یہ اٹھتے بیٹھتے ذکر وفا اچھا نہیں لگتا

آشفتہ چنگیزی

تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی

کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

حمایت علی شاعر

امید ان سے وفا کی تو خیر کیا کیجے

جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا کی طرح

آتش بہاولپوری

یا وفا ہی نہ تھی زمانہ میں

یا مگر دوستوں نے کی ہی نہیں

اسماعیل میرٹھی

فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نے

جب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھے

احمد ندیم قاسمی

کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا

مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا

داغؔ دہلوی

مجھے معلوم ہے اہل وفا پر کیا گزرتی ہے

سمجھ کر سوچ کر تجھ سے محبت کر رہا ہوں میں

احمد مشتاق

دوستی بندگی وفا و خلوص

ہم یہ شمع جلانا بھول گئے

انجم لدھیانوی

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

احسان دانش

تم جفا پر بھی تو نہیں قائم

ہم وفا عمر بھر کریں کیوں کر

بیدل عظیم آبادی

اس بے وفا سے کر کے وفا مر مٹا رضاؔ

اک قصۂ طویل کا یہ اختصار ہے

آل رضا رضا

جو انہیں وفا کی سوجھی تو نہ زیست نے وفا کی

ابھی آ کے وہ نہ بیٹھے کہ ہم اٹھ گئے جہاں سے

عبد المجید سالک

جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے

وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

عزیز حامد مدنی

یقیں مجھے بھی ہے وہ آئیں گے ضرور مگر

وفا کرے گی کہاں تک کہ زندگی ہی تو ہے

فاروق بانسپاری

آپ چھیڑیں نہ وفا کا قصہ

بات میں بات نکل آتی ہے

درد اسعدی