زندگی پر اشعار
ایک تخلیق کار زندگی
کو جتنے زاویوں اور جتنی صورتوں میں دیکھتا ہے وہ ایک عام شخص کے دائرے سے باہر ہوتا ہے ۔ زندگی کے حسن اور اس کی بد صورتی کا جو ایک گہرا تجزیہ شعر وادب میں ملتا ہے اس کا اندازہ ہمارے اس چھوٹے سے انتخاب سےلگایا جاسکتا ہے ۔ زندگی اتنی سادہ نہیں جتنی بظاہر نظر آتی ہے اس میں بہت پیچ ہیں اور اس کے رنگ بہت متنوع ہیں ۔ وہ بہت ہمدرد بھی ہے اور اپنی بعض صورتوں میں بہت سفاک بھی ۔ زندگی کی اس کہانی کو آپ ریختہ پر پڑھئے ۔
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے
-
موضوعات : بے خودیاور 7 مزید
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے
کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
-
موضوع : مشہور اشعار
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
-
موضوع : مشہور اشعار
زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
-
موضوعات : ضرب المثلاور 2 مزید
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر فلسفیانہ انداز میں کہتا ہے کہ زندگی اور غم لازم و ملزوم ہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی حقیقت ہیں۔ جب تک سانس چل رہی ہے، غم ساتھ رہے گا کیونکہ زندگی خود ایک قید ہے۔ انسان کے لیے غم سے مکمل رہائی صرف موت کے بعد ہی ممکن ہے، اس سے پہلے سکون کی امید عبث ہے۔
-
موضوعات : غماور 1 مزید
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
EXPLANATION #1
چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا:
ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ
اب عناصر میں اعتدال کہاں
انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔
شفق سوپوری
-
موضوعات : عناصر شاعریاور 2 مزید
موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر ایک الٹی مگر گہری بات کہتا ہے: موت شاید مسئلہ ہے جس کا حل سوچا جا سکتا ہے، لیکن زندگی خود ایسی کیفیت ہے جس کی بے چینی اور کرب کا کوئی مکمل علاج نہیں۔ “علاج” یہاں محض دوا نہیں بلکہ دل کو سکون دینے والی نجات کا استعارہ ہے۔ لہجہ تھکن، بے بسی اور وجودی اداسی سے بھرا ہوا ہے۔
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
-
موضوع : دنیا
اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
-
موضوعات : ترغیبیاور 1 مزید
زندگی ایک فن ہے لمحوں کو
اپنے انداز سے گنوانے کا
زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں مجبوریاں تنہائیاں
غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست
وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ زندگی کا پورا وقت ایک ہی دائرے میں کٹ گیا: محبوب کی یاد اور اسے بھلانے کی جدوجہد۔ دونوں حالتیں بظاہر مخالف ہیں مگر نتیجہ ایک ہے، کیونکہ مرکز پھر بھی وہی محبوب رہتا ہے۔ یہاں “کاٹ دیے” میں دنوں کا بوجھ اور بےمزگی جھلکتی ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ جدائی نے جینے کو بھی محض گزارنے میں بدل دیا۔
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
-
موضوعات : اداسیاور 3 مزید
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
-
موضوع : مشہور اشعار
یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں
زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے
یہ مانا زندگی ہے چار دن کی
بہت ہوتے ہیں یارو چار دن بھی
Interpretation:
Rekhta AI
شعر زندگی کی قلت کو “چار دن” کی تمثیل میں تسلیم کرتا ہے، مگر فوراً زاویۂ نظر بدل دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہی تھوڑا سا وقت بھی تجربات، دکھ سکھ اور احساسات کے اعتبار سے بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ “یارو” کی مخاطبت اسے دوستانہ اور زندگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے کی دعوت بنا دیتی ہے۔
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو
-
موضوعات : امیداور 1 مزید
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا
-
موضوع : خواب
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 1 مزید
ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ
زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا
-
موضوع : مشہور اشعار
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نباہ رہا ہو رقیب سے
-
موضوعات : رقیباور 1 مزید
کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے
-
موضوع : کتاب
کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں
زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر موت کو نسبتاً صاف اور بےریا سمجھتا ہے کہ وہ ایک بار آتی ہے اور قصہ ختم کر دیتی ہے۔ اصل شکوہ زندگی سے ہے جو امید دلا کر بار بار توڑتی ہے اور وعدوں کے پردے میں فریب پہ فریب کرتی رہتی ہے۔ اس میں کڑواہٹ، مایوسی اور وجودی بےچینی جھلکتی ہے۔
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر
کوئی خاموش زخم لگتی ہے
زندگی ایک نظم لگتی ہے
زندگی کیا ہے اک کہانی ہے
یہ کہانی نہیں سنانی ہے
تو کہانی ہی کے پردے میں بھلی لگتی ہے
زندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی
ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیت
دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم
میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں مایوسی کے مقابلے میں شفقت بھرا مشورہ ہے کہ عمداً مر جانا کوئی سمجھ کی بات نہیں، کیونکہ اصل سرمایہ “جان” ہے۔ “جان ہے تو جہان ہے” میں جان کو بنیاد اور جہان کو اس کے نتیجے کے طور پر رکھا گیا ہے۔ لہجہ پیار اور تسلی کا ہے: زندہ رہو گے تو امکانات، رشتے اور معنی سب پھر مل سکتے ہیں۔
-
موضوعات : مشہور اشعاراور 1 مزید
مصیبت اور لمبی زندگانی
بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا
-
موضوع : غم
یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر
جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں
-
موضوعات : گناہاور 1 مزید
گر زندگی میں مل گئے پھر اتفاق سے
پوچھیں گے اپنا حال تری بے بسی سے ہم
جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں
خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے
ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
-
موضوعات : ماںاور 1 مزید
زندگی کیا ہے آج اسے اے دوست
سوچ لیں اور اداس ہو جائیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر دوست کو دعوت دیتا ہے کہ زندگی کے مفہوم پر آج ہی سنجیدگی سے سوچا جائے۔ جیسے ہی آدمی زندگی کی ناپائیداری اور کمیوں کو صاف دیکھتا ہے، ایک خاموش ملال دل میں اتر آتا ہے۔ یہاں سوچنا ہی حقیقت کا سامنا کرنا ہے، اور وہ حقیقت خوشی چھین لیتی ہے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے
کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے
-
موضوعات : شہراور 1 مزید
بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے
ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے
-
موضوعات : آرزواور 1 مزید
یہی زندگی مصیبت یہی زندگی مسرت
یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ
عشق کو ایک عمر چاہئے اور
عمر کا کوئی اعتبار نہیں