بندگی پر اشعار
بندگی اپنے سیدھے سے
مفہوم میں خدا اور بندے کے بیچ کے رشتے کی صورت کا نام ہے ۔ شاعری میں اس رشتے کی کشمکش اور اس کے سکھ دکھ کو طرح طرح سے موضوع بنایا گیاہے ۔ بندہ کبھی بندگی کے بار تلے دب جاتا ہے اور کبھی بندگی میں بھی اپنی خودبینی اور آزادہ روی کی راہیں تلاش کرتا ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب بندگی کی انہیں الجھی ہوئی کیفیتوں کا بیان ہے ۔
بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں
عاشقی سے ملے گا اے زاہد
بندگی سے خدا نہیں ملتا
Interpretation:
Rekhta AI
داغؔ دہلوی یہاں زاہد کی خشک پرہیزگاری پر طنز کرتے ہیں اور عشق کی سچائی کو اصل راستہ بتاتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ محض رسم و رواج والی بندگی، بغیر دل کی تپش کے، انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتی۔ خدا کی قربت کے لیے اندر کی لگن اور محبت ضروری ہے۔
-
موضوعات : خدااور 1 مزید
دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہو
بندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہو
-
موضوع : ویلنٹائن ڈے
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب یہاں محبوب کی بے رخی اور ظلم کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے محبوب کی اتنی پوجا کی مگر مجھے کوئی صلہ نہیں ملا، گویا محبوب کی حکمرانی نمرود کی خدائی تھی جس میں بندے پر صرف ظلم ہوتا ہے اور اس کی بندگی رائیگاں جاتی ہے۔
-
موضوعات : سوالاور 1 مزید
تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو
یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے
رہنے دے اپنی بندگی زاہد
بے محبت خدا نہیں ملتا
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں بندگی اور انا کا ٹکراؤ دکھایا گیا ہے۔ کعبہ کا در قبولیت اور قربِ الٰہی کی علامت ہے، مگر شاعر کہتا ہے کہ ہماری خودبینی ایسی ہے کہ رد یا تاخیر پر ہم منت سماجت کے بجائے پلٹ جاتے ہیں۔ یوں عبادت کے اندر بھی ایک چھپی ہوئی سرکشی اور وقارِ انا نمایاں ہو جاتا ہے۔
یہی ہے زندگی اپنی یہی ہے بندگی اپنی
کہ ان کا نام آیا اور گردن جھک گئی اپنی
جواز کوئی اگر میری بندگی کا نہیں
میں پوچھتا ہوں تجھے کیا ملا خدا ہو کر
صدق و صفائے قلب سے محروم ہے حیات
کرتے ہیں بندگی بھی جہنم کے ڈر سے ہم
دوستی بندگی وفا و خلوص
ہم یہ شمع جلانا بھول گئے
-
موضوعات : دوستیاور 1 مزید
قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا
تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا
شاہوں کی بندگی میں سر بھی نہیں جھکایا
تیرے لیے سراپا آداب ہو گئے ہم
اپنی خوئے وفا سے ڈرتا ہوں
عاشقی بندگی نہ ہو جائے
خلوص ہو تو کہیں بندگی کی قید نہیں
صنم کدے میں طواف حرم بھی ممکن ہے
کیسے کریں بندگی ظفرؔ واں
بندوں کی جہاں خدائیاں ہیں
مری انا نے سبق دے کے خود پرستی کا
چھڑا دیا ہے زمانے کی بندگی سے مجھے
اب آگے جو بھی ہو انجام دیکھا جائے گا
خدا تلاش لیا اور بندگی کر لی
-
موضوع : خدا