انسان پر اشعار
شاعری میں انسان کے طور
طریقوں ، اس کے اخلاق وعادات ، اس کی انسانی کمزوریوں اور قوتوں اور اچھے برے رویوں کو کثرت سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ شاعری کا یہ حصہ انسانی فطرت کے ان باریک پہلوؤں کو بھی موضوع بناتا ہے جو عام زندگی میں نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب میں موجود انسان کی یہ کہانی بہت رنگارنگ اور دلچسپ ہے ساتھ ہی اس کے باطن کو روشن کرنے والی ہے ۔
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
-
موضوعات : آدمیاور 3 مزید
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
ظفر کہتے ہیں: اسے آدمی مت سمجھو، چاہے وہ کتنا ہی سمجھ دار اور ذہین ہو۔
جو عیش میں خدا کو بھول جائے اور غصّے میں خدا کا خوف نہ رکھے۔
اس شعر میں انسان کی پہچان عقل سے نہیں بلکہ اخلاق اور خدا آگاہی سے بتائی گئی ہے۔ آسائش میں یادِ خدا شکر اور عاجزی کی علامت ہے، اور طیش میں خوفِ خدا ضبطِ نفس اور انصاف کی ضمانت۔ جو دونوں حالوں میں خدا کو بھولے، اس کی سمجھ بوجھ بے اثر اور اس کا کردار کھوکھلا رہ جاتا ہے۔
-
موضوع : آدمی
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
ہر کام کا آسانی سے انجام پا جانا کس قدر مشکل ہے۔
یہاں تک کہ آدمی کے لیے بھی سچا انسان بن جانا سہل نہیں ہے۔
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ کائنات میں سہولت کا فقدان ہے اور ہر کام میں دشواری حائل ہے۔ جس طرح ہر کام آسان نہیں ہوتا، اسی طرح 'آدمی' (جو کہ محض ایک ظاہری صورت ہے) کے لیے 'انسان' (جو کہ اعلیٰ اخلاقی صفات کا مجموعہ ہے) کے مرتبے تک پہنچنا انتہائی کٹھن عمل ہے۔
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
-
موضوع : مشہور اشعار
گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
-
موضوع : مشینی زندگی
سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں
جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں
-
موضوع : خدا
بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئے
انساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئے
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کا
امید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
-
موضوعات : امیداور 1 مزید
آدمی آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
-
موضوعات : آدمیاور 1 مزید
میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندر
آدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر
برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے
ہر آدمی میں کوئی دوسرا بھی ہوتا ہے
مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
-
موضوع : بھروسہ
اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف
ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا
-
موضوعات : آدمیاور 1 مزید
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
انسانیت اور اخلاق ایک الگ خوبی ہے، جبکہ علم کا ہونا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔
طوطے کو جتنا بھی پڑھا لکھا لو، وہ آخر کار جانور ہی رہتا ہے اور انسان نہیں بن جاتا۔
شاعر اس شعر میں علم اور عمل (آدمیت) کے فرق کو واضح کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محض علم حاصل کر لینا انسان کو اشرف نہیں بناتا، جس طرح طوطے کو بولنا سکھانے کے باوجود اس کی جبلت نہیں بدلتی۔ اصل اہمیت کتابی علم کی نہیں بلکہ انسانیت اور شرافت کی ہے۔
جانور آدمی فرشتہ خدا
آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے
آدمی آدمی اکیلا ہے
ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب
یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا
-
موضوعات : آدمیاور 1 مزید
اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا
کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں
-
موضوع : نقاب
دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام
آدمی کو آدمی درکار ہے
دیوتاؤں کو تو خدا ہی سے کام پڑے گا، وہ اسی سے رجوع کریں گے۔
لیکن انسان کو سہارا دینے کے لیے ایک انسان ہی چاہیے۔
اس شعر میں شاعر آسمانی سہاروں سے زیادہ زمینی رشتوں کی اہمیت بتاتا ہے۔ دیوتا اگر خدا سے فریاد کریں تو وہ ان کا معاملہ ہے، مگر انسان کی زندگی انسان کے ساتھ سے چلتی ہے۔ بنیادی استعارہ یہ ہے کہ دکھ، ضرورت اور تنہائی میں اصل دوا انسانی ہمدردی اور عملی مدد ہے۔
پھول کر لے نباہ کانٹوں سے
آدمی ہی نہ آدمی سے ملے
جس کی ادا ادا پہ ہو انسانیت کو ناز
مل جائے کاش ایسا بشر ڈھونڈتے ہیں ہم
آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو
اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف
آدمی کے پاس سب کچھ ہے مگر
ایک تنہا آدمیت ہی نہیں
انسان کی بلندی و پستی کو دیکھ کر
انساں کہاں کھڑا ہے ہمیں سوچنا پڑا
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
دیوتا بننے کی حسرت میں معلق ہو گئے
اب ذرا نیچے اتریے آدمی بن جائیے
آدمی کیا وہ نہ سمجھے جو سخن کی قدر کو
نطق نے حیواں سے مشت خاک کو انساں کیا
بنا رہا ہوں میں فہرست چھوٹے لوگوں کی
ملال یہ کہ بڑے نام اس میں آتے ہیں
کفر و اسلام کی کچھ قید نہیں اے آتشؔ
شیخ ہو یا کہ برہمن ہو پر انساں ہووے
بنایا اے ظفرؔ خالق نے کب انسان سے بہتر
ملک کو دیو کو جن کو پری کو حور و غلماں کو
اے ظفرؔ! خالق نے آخر کب کسی کو انسان سے بڑھ کر بنایا ہے؟
نہ مَلَک، نہ دیو، نہ جن، نہ پری، نہ حور و غلماں—کسی کو بھی۔
اس شعر میں انسان کے وقار اور مرتبے پر زور ہے کہ خالق کی بنائی ہوئی مخلوقات میں کوئی بھی فطری طور پر انسان سے بہتر نہیں۔ شاعر مختلف ماورائی اور جنتی ہستیوں کا نام لے کر برتری کے عام گمان کو رد کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ انسان اپنی قدر پہچانے، مگر یہ قدر خالق کی عطا سمجھے۔
نہ تو میں حور کا مفتوں نہ پری کا عاشق
خاک کے پتلے کا ہے خاک کا پتلا عاشق
-
موضوع : عشق
روپ رنگ ملتا ہے خد و خال ملتے ہیں
آدمی نہیں ملتا آدمی کے پیکر میں
-
موضوع : آدمی
کیا ترے شہر کے انسان ہیں پتھر کی طرح
کوئی نغمہ کوئی پائل کوئی جھنکار نہیں
آخر انسان ہوں پتھر کا تو رکھتا نہیں دل
اے بتو اتنا ستاؤ نہ خدارا مجھ کو
بہت ہیں سجدہ گاہیں پر در جاناں نہیں ملتا
ہزاروں دیوتا ہیں ہر طرف انساں نہیں ملتا
یوں سراپا التجا بن کر ملا تھا پہلے روز
اتنی جلدی وہ خدا ہو جائے گا سوچا نہ تھا
-
موضوع : خدا
ادھر تیری مشیت ہے ادھر حکمت رسولوں کی
الٰہی آدمی کے باب میں کیا حکم ہوتا ہے
آدمی سے آدمی کی جب نہ حاجت ہو روا
کیوں خدا ہی کی کرے اتنی نہ پھر یاد آدمی
اہل معنی جز نہ بوجھے گا کوئی اس رمز کو
ہم نے پایا ہے خدا کو صورت انساں کے بیچ
-
موضوع : خدا
اے شیخ آدمی کے بھی درجے ہیں مختلف
انسان ہیں ضرور مگر واجبی سے آپ
غیب کا ایسا پرندہ ہے زمیں پر انساں
آسمانوں کو جو شہ پر پہ اٹھائے ہوئے ہے