Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مے کدہ پر اشعار

شاعروں نے مے ومیکدے

کے مضامین کو بہت تسلسل کے ساتھ باندھا ہے ۔ کلاسیکی شاعری کا یہ بہت مرغوب مضمون رہا ہے ۔ میکدے کا یہ شعری بیان اتنا دلچسپ اور اتنا رنگا رنگ ہے کہ آپ اسے پڑھ کر ہی خود کو میکدے کی ہاؤ ہو میں محسوس کرنے لگیں گے ۔ میکدے سے جڑے ہوئے اور بھی بہت سے پہلو ہیں ۔ زاہد ، ناصح ، توبہ ، مسجد ، ساقی جیسی لفظیات کے گرد پھیلے ہوئے اس موضوع پر مشتمل ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو پسند آئے گا ۔

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں

دواکر راہی

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

فراقؔ مے خانے میں ہنستے کھیلتے، بے فکری سے آئے تھے۔

شراب پی لینے کے بعد وہ یکدم سنجیدہ اور گمبھیر ہو گئے۔

اس شعر میں الٹا پن اور طنزیہ کیفیت ہے: مے خانہ جہاں سرمستی کی توقع ہوتی ہے، وہاں شراب پینے کے بعد سنجیدگی آ جاتی ہے۔ شراب یہاں صرف نشہ نہیں، تجربے اور حقیقت کے ذائقے کا استعارہ بھی ہے جو ہنسی چھین کر سوچ جگا دیتا ہے۔ جذباتی مرکز یہ ہے کہ اندر کی آنکھ کھلتے ہی بے فکری ختم ہو جاتی ہے۔

فراق گورکھپوری

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ

پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

کہنے کو تو شراب خانے کے دروازے اور پرہیزگار واعظ کے درمیان کوئی تعلق نہیں بنتا۔

لیکن مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ کل جب میں وہاں سے نکل رہا تھا تو وہ اندر جا رہے تھے۔

مرزا غالب نے اس شعر میں واعظ کی ظاہری پرہیزگاری اور باطنی حقیقت پر گہرا طنز کیا ہے۔ شاعر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ واعظ کا مے خانے سے کیا کام، لیکن ساتھ ہی یہ گواہی دیتا ہے کہ وہ چھپ کر وہاں آتے ہیں۔ اس طرح غالب نے اپنی رندی کا اعتراف کرتے ہوئے واعظ کی ریاکاری کا پردہ چاک کیا ہے۔

مرزا غالب

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

عبد الحمید عدم

نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں

چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

بشیر بدر

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا

ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

اے ذوقؔ! وہ ملا جو مدرسے کی خشک تعلیم اور ماحول کی وجہ سے خراب ہو گئے ہیں۔

انہیں مے خانے میں لے آؤ، وہاں عشق کی فضا میں ان کی اصلاح ہو جائے گی۔

اس شعر میں شاعر نے زاہدوں اور ملاؤں کی ظاہری پرہیزگاری پر چوٹ کی ہے۔ ذوقؔ کا کہنا ہے کہ مدرسے نے ان میں تکبر اور تنگ نظری پیدا کر دی ہے، جبکہ مے خانہ (جو محبت اور بے خودی کی علامت ہے) میں آ کر ان کا غرور ٹوٹ جائے گا اور وہ ایک بہتر انسان بن جائیں گے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم

کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

خمار بارہ بنکوی

سرک کر آ گئیں زلفیں جو ان مخمور آنکھوں تک

میں یہ سمجھا کہ مے خانے پہ بدلی چھائی جاتی ہے

نشور واحدی

مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ

کوئی آفت ادھر نہیں آتی

عبد الحمید عدم

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم

بس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم

نظیر اکبرآبادی

مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر

مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا

ریاضؔ خیرآبادی

ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے

لطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے

اصغر گونڈوی

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی

اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

اختر شیرانی

کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس

میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

عبد الحمید عدم

کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا

آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

اقبال صفی پوری

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید

مسجد ہو مدرسہ ہو کوئی خانقاہ ہو

جب مے کدہ چھوٹ گیا تو اب کسی جگہ سے بندھے رہنے کی کیا ضرورت؟

مسجد ہو یا مدرسہ ہو یا خانقاہ، میرے لیے ہر جگہ ایک سی ہے۔

غالب کے ہاں مے کدہ ایک وابستگی اور عادت کی علامت ہے؛ جب وہ چھوٹ گئی تو “جگہ” کی پابندی بھی بے معنی ہو گئی۔ مسجد، مدرسہ اور خانقاہ مذہب، علم اور تصوف کے مراکز ہیں، مگر شاعر انہیں محض مختلف ناموں والی جگہیں قرار دیتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ سچ اور سکون کسی مخصوص عنوان یا مقام کے محتاج نہیں، اور لہجے میں ہلکی سی طنزیہ بے نیازی بھی ہے۔

مرزا غالب

تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے

ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے

امیر مینائی

یہ مے خانہ ہے بزم جم نہیں ہے

یہاں کوئی کسی سے کم نہیں ہے

جگر مراد آبادی

پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں یہاں

مے کدہ میں کوئی چھوٹا نہ بڑا جام اٹھا

بشیر بدر

رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے

جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے

اصغر گونڈوی

مے خانے میں مزار ہمارا اگر بنا

دنیا یہی کہے گی کہ جنت میں گھر بنا

ریاضؔ خیرآبادی

مسجد میں بلاتے ہیں ہمیں زاہد نا فہم

ہوتا کچھ اگر ہوش تو مے خانے نہ جاتے

امیر مینائی

روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے

مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے

کس سرمست کی روح مے خانے سے بھی پیاسی لوٹ گئی؟

اے ساقی! تیرے پیمانے کی کشش ایسی ہے کہ مے اڑتی چلی جاتی ہے۔

شاعر تعجب کرتا ہے کہ مے خانے جیسی جگہ سے بھی کوئی روح پیاسی کیسے رہ گئی—یعنی پیاس صرف جسمانی نہیں، دل و روح کی آرزو ہے۔ دوسرے مصرعے میں ساقی کی دلکشی اور پیمانے کی تاثیر کو مبالغے سے بیان کیا گیا ہے کہ شراب ٹھہرتی ہی نہیں، جیسے اُڑ جاتی ہو۔ یہ تشنگی ایک نہ ختم ہونے والی خواہش اور سرمستی کی علامت بن جاتی ہے۔

داغؔ دہلوی

اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو

تمام عمر تو گزری شراب خانے میں

حفیظ جونپوری

یہ کہہ دو حضرت ناصح سے گر سمجھانے آئے ہیں

کہ ہم دیر و حرم ہوتے ہوئے مے خانے آئے ہیں

نامعلوم

مے کدے کی طرف چلا زاہد

صبح کا بھولا شام گھر آیا

کلیم عاجز

کوئی دن آگے بھی زاہد عجب زمانہ تھا

ہر اک محلہ کی مسجد شراب خانہ تھا

قائم چاندپوری

جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد

میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

حبیب موسوی

مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخیٔ مے سے

تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے

راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا

اقبال صفی پوری

ہوش آنے کا تھا جو خوف مجھے

مے کدے سے نہ عمر بھر نکلا

جلیل مانک پوری

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

حبیب موسوی

جان میری مے و ساغر میں پڑی رہتی ہے

میں نکل کر بھی نکلتا نہیں مے خانے سے

جلیل مانک پوری

توبہ کھڑی ہے در پہ جو فریاد کے لئے

یہ مے کدہ بھی کیا کسی قاضی کا گھر ہوا

احمد حسین مائل

مے خانے کی سمت نہ دیکھو

جانے کون نظر آ جائے

حفیظ میرٹھی

بہار آتے ہی ٹکرانے لگے کیوں ساغر و مینا

بتا اے پیر مے خانہ یہ مے خانوں پہ کیا گزری

جگن ناتھ آزاد

چھوڑ کر کوچۂ مے خانہ طرف مسجد کے

میں تو دیوانہ نہیں ہوں جو چلوں ہوش کی راہ

بقا اللہ بقاؔ

مے کدے میں نشہ کی عینک دکھاتی ہے مجھے

آسماں مست و زمیں مست و در و دیوار مست

حیدر علی آتش

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

حبیب موسوی

واعظ و محتسب کا جمگھٹ ہے

میکدہ اب تو میکدہ نہ رہا

بیخود بدایونی

زندگی نام اسی موج مے ناب کا ہے

مے کدے سے جو اٹھے دار و رسن تک پہنچے

کمال احمد صدیقی

مے کدہ جل رہا ہے تیرے بغیر

دل میں چھالے ہیں آبگینے کے

لالہ مادھو رام جوہر

اے مصحفیؔ اب چکھیو مزا زہد کا تم نے

مے خانے میں جا جا کے بہت پی ہیں شرابیں

مصحفی غلام ہمدانی

پختہ کر لے اے زاہد اپنا ایماں

مسجد سے پہلے مے خانہ پڑتا ہے

عبدالوقار

ہائے رے وہ مدھ بھری آنکھیں خمارؔ

مے کدے ویران نظر آئے ہیں

خمار بارہ بنکوی

ہر اک رند کے ہاتھ میں جام جم ہو

کچھ اس شان کا میکدہ چاہتا ہوں

امجد علی غزنوی

آنکھوں کے گلابی ڈوروں میں اک کیف سا پایا جاتا ہے

مے خوار محبت ہوش میں آ ساقی کی نظر ہے جام نہیں

فضل لکھنوی

خدا کرے کہیں مے خانہ کی طرف نہ مڑے

وہ محتسب کی سواری فریب راہ رکی

حبیب موسوی

دخت رز اور تو کہاں ملتی

کھینچ لائے شراب خانے سے

شرف مجددی

شیخ اس کی چشم کے گوشے سے گوشے ہو کہیں

اس طرف مت جاؤ ناداں راہ مے خانے کی ہے

شیخ ظہور الدین حاتم
بولیے