مے کشی پر اشعار
مے کشی پر شاعری موضوعاتی
طور پر بہت متنوع ہے ۔ اس میں مے کشی کی حالت کے تجربات اور کیفیتوں کا بیان بھی ہے اور مے کشی کو لے کر زاہد وناصح سے روایتی چھیڑ چھاڑ بھی ۔ اس شاعری میں مے کشوں کے لئے بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور لطف اٹھائیے ۔
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر چھوڑی ہوئی عادت کے لوٹ آنے کی نازک سی اعترافی کیفیت بیان کرتا ہے۔ روزِ ابر اداسی اور بوجھل پن کی علامت ہے، اور شبِ ماہتاب نرمی، سرشاری اور تنہائی کی۔ دونوں موسم دل کے اندر کی کمزوری کو جگا کر شراب کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
-
موضوع : شراب
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی
-
موضوعات : راتاور 1 مزید
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر نے شراب نوشی کی بری عادت اور اس کی مضبوط گرفت سے خبردار کیا ہے۔ 'دخترِ رز' کو ایک 'کافر' یا ظالم محبوبہ کہا گیا ہے جو اگر ایک بار انسان کے منہ لگ جائے تو پھر جان نہیں چھوڑتی۔ یہ دراصل نشے کی لت کے بارے میں ہے کہ اس سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز
یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عید
سوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے
پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں
-
موضوع : شراب
ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح
اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی
کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے
-
موضوع : شراب
خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی
وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے
سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے
اور جگرؔ کو شراب نے مارا
-
موضوع : شراب
اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی
عبادت کریں آج مخمور ہو کر
بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگر
پی کے انسان ہوا جاتا ہے
-
موضوع : شراب
زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا
میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی
رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے
نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا
جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر
رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم
-
موضوعات : ادااور 2 مزید
اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی
بے پیے بے خودی سی رہتی ہے
-
موضوعات : بے خودیاور 2 مزید
پلا مے آشکارا ہم کو کس کی ساقیا چوری
خدا سے جب نہیں چوری تو پھر بندے سے کیا چوری
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر بے باکی اور سچائی کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ منافقت فضول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے اور جب وہ ہمارے گناہوں کو دیکھ رہا ہے تو دنیا والوں کے خوف سے اپنے اعمال کو چھپانا بے معنی اور ریاکاری ہے۔
اٹھا صراحی یہ شیشہ وہ جام لے ساقی
پھر اس کے بعد خدا کا بھی نام لے ساقی
-
موضوع : شراب
مے کشی کے بھی کچھ آداب برتنا سیکھو
ہاتھ میں اپنے اگر جام لیا ہے تم نے
مجھے توبہ کا پورا اجر ملتا ہے اسی ساعت
کوئی زہرہ جبیں پینے پہ جب مجبور کرتا ہے
زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور
پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا
تم شراب پی کر بھی ہوش مند رہتے ہو
جانے کیوں مجھے ایسی مے کشی نہیں آئی
اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر
عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم
غرق کر دے تجھ کو زاہد تیری دنیا کو خراب
کم سے کم اتنی تو ہر میکش کے پیمانے میں ہے
مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی
میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی
مے کشی سے نجات مشکل ہے
مے کا ڈوبا کبھی ابھر نہ سکا
پی کے جیتے ہیں جی کے پیتے ہیں
ہم کو رغبت ہے ایسے جینے سے
مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہ
آئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹا
مے کشی میں رکھتے ہیں ہم مشرب درد شراب
جام مے چلتا جہاں دیکھا وہاں پر جم گئے
پھر سے انہیں مے خواروں کے بیچ آیا ہوں واپس
دو بات سنائیں گے پر اک جام تو دیں گے
مجھ کو مٹی کے پیالے میں پلا تازہ شراب
جسم ہونے لگا بے کار کوئی مستی ہو
خدا کرے تجھے تہذیب مے کشی ہو نصیب
خدا کرے تجھے نشہ سمجھ میں آ جائے
شکوۂ بے چارگی میکشؔ کسی سے کیوں کریں
عشق تو محرومیٔ دل کے سوا کچھ بھی نہیں
-
موضوعات : دلاور 3 مزید