Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Farhat Ehsas's Photo'

فرحت احساس

1952 | دلی, انڈیا

ممتاز ما بعد جدید شاعروں میں نمایاں

ممتاز ما بعد جدید شاعروں میں نمایاں

فرحت احساس کے اشعار

41K
Favorite

باعتبار

اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے

اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

علاج اپنا کراتے پھر رہے ہو جانے کس کس سے

محبت کر کے دیکھو نا محبت کیوں نہیں کرتے

میں رونا چاہتا ہوں خوب رونا چاہتا ہوں میں

پھر اس کے بعد گہری نیند سونا چاہتا ہوں میں

کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں

وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں

کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی

ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

ایک بوسے کے بھی نصیب نہ ہوں

ہونٹھ اتنے بھی اب غریب نہ ہوں

ہمارا زندہ رہنا اور مرنا ایک جیسا ہے

ہم اپنے یوم پیدائش کو بھی برسی سمجھتے ہیں

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے

شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطا میری ہے

وہ عقل مند کبھی جوش میں نہیں آتا

گلے تو لگتا ہے آغوش میں نہیں آتا

تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات

مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا

اندر کے حادثوں پہ کسی کی نظر نہیں

ہم مر چکے ہیں اور ہمیں اس کی خبر نہیں

سب کے جیسی نہ بنا زلف کہ ہم سادہ نگاہ

تیرے دھوکے میں کسی اور کے شانے لگ جائیں

عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر

جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے

شستہ زباں شگفتہ بیاں ہونٹھ گلفشاں

ساری ہیں تجھ میں خوبیاں اردو زبان کی

پھر سوچ کے یہ صبر کیا اہل ہوس نے

بس ایک مہینہ ہی تو رمضان رہے گا

دنیا سے کہو جو اسے کرنا ہے وہ کر لے

اب دل میں مرے وہ علیٰ الاعلان رہے گا

اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں

اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے

بڑا وسیع ہے اس کے جمال کا منظر

وہ آئینے میں تو بس مختصر سا رہتا ہے

پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے

ہم چارہ گر سے ملنے بیمار ہو کے نکلے

ہجر و وصال چراغ ہیں دونوں تنہائی کے طاقوں میں

اکثر دونوں گل رہتے ہیں اور جلا کرتا ہوں میں

تمام شہر کی آنکھوں میں ریزہ ریزہ ہوں

کسی بھی آنکھ سے اٹھتا نہیں مکمل میں

ایک بار اس نے بلایا تھا تو مصروف تھا میں

جیتے جی پھر کبھی باری ہی نہیں آئی مری

کیا بدن ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں آنکھوں میں

بس یہی دیکھتا رہتا ہوں کہ اب کیا ہوگا

عشق اخبار کب کا بند ہوا

دل مرا آخری شمارہ ہے

جنگلوں کو کاٹ کر کیسا غضب ہم نے کیا

شہر جیسا ایک آدم خور پیدا کر لیا

کس کی ہے یہ تصویر جو بنتی نہیں مجھ سے

میں کس کا تقاضا ہوں کہ پورا نہیں ہوتا

اس سے ملنے کے لئے جائے تو کیا جائے کوئی

اس نے دروازے پہ آئینہ لگا رکھا ہے

سخت سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت روح مری

جسم یار آ کہ بچاری کو سہارا مل جائے

یہ شہر وہ ہے کہ کوئی خوشی تو کیا دیتا

کسی نے دل بھی دکھایا نہیں بہت دن سے

اسے خبر تھی کہ ہم وصال اور ہجر اک ساتھ چاہتے ہیں

تو اس نے آدھا اجاڑ رکھا ہے اور آدھا بنا دیا ہے

مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے

تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

سخت تکلیف اٹھائی ہے تجھے جاننے میں

اس لئے اب تجھے آرام سے پہچانتے ہیں

ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے

نہ جانے کتنے دکھوں کو دبانا پڑتا ہے

اب دیکھتا ہوں میں تو وہ اسباب ہی نہیں

لگتا ہے راستے میں کہیں کھل گیا بدن

یہ دھڑکتا ہوا دل اس کے حوالے کر دوں

ایک بھی شخص اگر شہر میں زندہ مل جائے

محبت پھول بننے پر لگی تھی

پلٹ کر پھر کلی کر لی ہے میں نے

فرار ہو گئی ہوتی کبھی کی روح مری

بس ایک جسم کا احسان روک لیتا ہے

میں جب کبھی اس سے پوچھتا ہوں کہ یار مرہم کہاں ہے میرا

تو وقت کہتا ہے مسکرا کر جناب تیار ہو رہا ہے

قصۂ آدم میں ایک اور ہی وحدت پیدا کر لی ہے

میں نے اپنے اندر اپنی عورت پیدا کر لی ہے

یہ تیرا میرا جھگڑا ہے دنیا کو بیچ میں کیوں ڈالیں

گھر کے اندر کی باتوں پر غیروں کو گواہ نہیں کرتے

جو عشق چاہتا ہے وہ ہونا نہیں ہے آج

خود کو بحال کرنا ہے کھونا نہیں ہے آج

اسے بچوں کے ہاتھوں سے اٹھاؤ

یہ دنیا اس قدر بھاری نہیں ہے

جسے بھی پیاس بجھانی ہو میرے پاس رہے

کبھی بھی اپنے لبوں سے چھلکنے لگتا ہوں

زندگی کا دیا ہوا چہرا عشق دریا میں دھو کے آئے ہیں

فرحت‌‌ اللہؔ خاں گئے تھے وہاں فرحتؔ احساس ہو کے آئے ہیں

دو الگ لفظ نہیں ہجر و وصال

ایک میں ایک کی گویائی ہے

عشق میں پینے کا پانی بس آنکھ کا پانی

کھانے میں بس پتھر کھائے جا سکتے تھے

بس محبت بس محبت بس محبت جان من

باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیے

مری محبت میں ساری دنیا کو اک کھلونا بنا دیا ہے

یہ زندگی بن گئی ہے ماں اور مجھ کو بچہ بنا دیا ہے

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے