جوانی پر اشعار
انسانی زندگی میں جو
دور سب سے زیادہ امنگوں ، آرزؤں ، تمناؤں اور رنگینیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ جوانی ہی ہے ۔ جوانی کو موضوع بنانے والی شاعری جوانی کی ان رنگینیوں کو بھی قید کرتی ہے اور جوانی کے گزرنے اور اس کی یاد سے چھا جانے والے گہرے ملال کو بھی ۔
سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں شاعر زمانے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ لوگوں کی نظر میں حیا باقی نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں وہ مخاطب کے لیے دعا کرتا ہے کہ اس کی جوانی بے داغ رہے اور برائی کے اثر سے بچی رہے۔ “آنکھ” معاشرتی شعور اور “داغ” کردار کی آلودگی کی علامت ہیں۔ جذبہ فکر مندی اور خیر خواہی کا ہے۔
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر رات، نیند اور کہانی کو ایک ساتھ لا کر جوانی کی کیفیت کو خواب و خیال اور رومان سے بھرپور دکھاتا ہے۔ “ہائے” میں تحسین بھی ہے اور ہلکی سی کسک بھی، جیسے اس حسن کے ساتھ اس کی ناپائیداری کا احساس بھی جڑا ہو۔ مجموعی تاثر حیرت، سرشاری اور گزرتی عمر کی میٹھی تلخی کا ہے۔
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
-
موضوعات : بڑھاپااور 2 مزید
ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا
ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا
کسی کا عہد جوانی میں پارسا ہونا
قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی
طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا
بات پہنچی تری جوانی تک
-
موضوع : مشہور اشعار
عذاب ہوتی ہیں اکثر شباب کی گھڑیاں
گلاب اپنی ہی خوشبو سے ڈرنے لگتے ہیں
سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا
میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
-
موضوع : حیا
ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار
اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی
اف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی چال ڈھال اور انداز کی دلکشی پر حیران ہے جو پورے وجود پر چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ “سر سے پاؤں تک” سے مراد مکمل حسن اور ہمہ گیر کشش ہے۔ “کافر جوانی” استعارہ ہے، یعنی ایسی جوانی جو عاشق کے ہوش و حواس اور ضبط کو لوٹ لے۔ جذبہ حیرت، چاہت اور بے بسی کا ہے۔
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے
ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
اف وہ طوفان شباب آہ وہ سینہ تیرا
جسے ہر سانس میں دب دب کے ابھرتا دیکھا
-
موضوع : بولڈ شاعری
اب جو اک حسرت جوانی ہے
عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر نے جوانی کی حسرت کو بڑھاپے کی دلیل بنا دیا ہے۔ جب جوانی ہاتھ سے نکل جائے تو اس کی کمی حسرت بن کر سامنے آتی ہے، اور یہی حسرت گزری ہوئی عمر کی نشانی ٹھہرتی ہے۔ شعر میں یادِ ماضی، افسوس اور وقت کے بےرحم گزرنے کا درد نہایت سادگی سے ابھرتا ہے۔
-
موضوع : بڑھاپا
لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے
کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں
-
موضوع : رسوائی
جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ
مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے
وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا
جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا
تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک
قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا
بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت ہے
حسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے
جوانی کی دعا لڑکوں کو نا حق لوگ دیتے ہیں
یہی لڑکے مٹاتے ہیں جوانی کو جواں ہو کر
ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری
جس نے کی ہو شباب میں توبہ
گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہا
وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
ہے جوانی خود جوانی کا سنگار
سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے
-
موضوع : سادگی
وقت پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو اسے اپنی جوانی کا زمانہ ایک واہمہ سا لگتا ہے۔ جوانی کی رنگینیاں اور طاقت بڑھاپے کی کمزوری کے سامنے اتنی ناقابلِ یقین لگتی ہیں کہ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت نہیں بلکہ کوئی دیکھا ہوا خواب تھا۔
-
موضوعات : بڑھاپااور 1 مزید
مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کا
لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے
پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
سنبھالا ہوش تو مرنے لگے حسینوں پر
ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے
آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں
کس غضب کی ہے جوانی میری
-
موضوع : آئینہ
قیامت ہے تری اٹھتی جوانی
غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں
کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی
میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا
یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو
میری اور اپنی جوانی کو نہ برباد کرو
-
موضوع : یاد
اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں
ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں
جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے
اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو
تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے
جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا
-
موضوعات : آرزواور 3 مزید
یہ حسن دل فریب یہ عالم شباب کا
گویا چھلک رہا ہے پیالہ شراب کا
اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی
جواں ہوتے ہی لے اڑا حسن تم کو
پری ہو گئے تم تو انسان ہو کر
ترا شباب رہے ہم رہیں شراب رہے
یہ دور عیش کا تا دور آفتاب رہے
نوجوانی میں پارسا ہونا
کیسا کار زبون ہے پیارے
مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے
عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے
-
موضوعات : شراباور 1 مزید
کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا
کچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا
کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح
یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا
توبہ توبہ یہ بلا خیز جوانی توبہ
دیکھ کر اس بت کافر کو خدا یاد آیا
وہ عہد جوانی وہ خرابات کا عالم
نغمات میں ڈوبی ہوئی برسات کا عالم
خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی
پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے
-
موضوعات : بڑھاپااور 1 مزید
تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا
میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں