جدائی پر 20 منتخب اشعار
معشوق کا فراق اور اس
سے جدائی عاشق کیلئے تقریبا ایک مستقل کیفیت ہے ۔ وہ عشق میں ایک ایسے ہجر کو گزار رہا ہوتا ہے جس کا کوئی انجام نہیں ہوتا ۔ یہ تصور اردو کی کلاسیکی شاعری کا بہت بنیادی تصور ہے ۔ شاعروں نے ہجر وفراق کی اس کہانی کو بہت طول دیا ہے اور نئے نئے مضامین پیدا کئے ہیں ۔ جدائی کے لمحات ہم سب کے اپنے گزارے ہوئے اور جئے ہوئے لمحات ہیں اس لئے ان شعروں میں ہم خود اپنی تلاش کرسکتے ہیں ۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
-
موضوعات: خراجاور 2 مزید
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
-
موضوعات: جدائیاور 2 مزید
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
-
موضوعات: جدائیاور 5 مزید
کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے
رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا
-
موضوعات: بیداراور 3 مزید
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
-
موضوعات: الوداعاور 3 مزید
میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی
-
موضوعات: انتظاراور 1 مزید
مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں وقت کے احساس کا فرق دکھایا گیا ہے: محبوب کے ساتھ ہوں تو وقت اڑ جاتا ہے، اور دوری میں وہی وقت بھاری ہو کر کھنچ جاتا ہے۔ مہینے اور گھڑیاں دل کی کیفیت کی علامت ہیں۔ مرکزی جذبہ تڑپ ہے جو جدائی کو طویل اور وصال کو مختصر بنا دیتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں وقت کے احساس کا فرق دکھایا گیا ہے: محبوب کے ساتھ ہوں تو وقت اڑ جاتا ہے، اور دوری میں وہی وقت بھاری ہو کر کھنچ جاتا ہے۔ مہینے اور گھڑیاں دل کی کیفیت کی علامت ہیں۔ مرکزی جذبہ تڑپ ہے جو جدائی کو طویل اور وصال کو مختصر بنا دیتی ہے۔
-
موضوع: جدائی
وصل میں رنگ اڑ گیا میرا
کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے ساتھ ہونے پر بھی اس کی رنگت، ہمت اور وقار کمزور ہو گئے۔ جب وصل ہی نے اسے یوں توڑ دیا تو جدائی کا دکھ تو اور بھی جان لیوا ہوگا۔ “منہ دکھانا” میں مقابلہ کرنے اور آبرو برقرار رکھنے کا مفہوم شامل ہے۔ یہ شعر عشق کی تھکن اور آئندہ جدائی کے خوف کو سمیٹ دیتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے ساتھ ہونے پر بھی اس کی رنگت، ہمت اور وقار کمزور ہو گئے۔ جب وصل ہی نے اسے یوں توڑ دیا تو جدائی کا دکھ تو اور بھی جان لیوا ہوگا۔ “منہ دکھانا” میں مقابلہ کرنے اور آبرو برقرار رکھنے کا مفہوم شامل ہے۔ یہ شعر عشق کی تھکن اور آئندہ جدائی کے خوف کو سمیٹ دیتا ہے۔
یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل
-
موضوعات: الوداعاور 2 مزید
تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر نے اپنی قسمت کو ایک ایسے تالے سے تشبیہ دی ہے جو خاص حروف ملانے سے کھلتا ہے۔ تالے کا کھلنا دراصل اس کے حصوں کا جدا ہونا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ میری بدقسمتی یہ ہے کہ جونہی محبوب سے 'بات بنتی ہے' (تعلق قائم ہوتا ہے یا وصل کا موقع آتا ہے)، اسی کامیابی کے نتیجے میں فوراً جدائی ہو جاتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر نے اپنی قسمت کو ایک ایسے تالے سے تشبیہ دی ہے جو خاص حروف ملانے سے کھلتا ہے۔ تالے کا کھلنا دراصل اس کے حصوں کا جدا ہونا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ میری بدقسمتی یہ ہے کہ جونہی محبوب سے 'بات بنتی ہے' (تعلق قائم ہوتا ہے یا وصل کا موقع آتا ہے)، اسی کامیابی کے نتیجے میں فوراً جدائی ہو جاتی ہے۔
-
موضوعات: جدائیاور 1 مزید
لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو
نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے
-
موضوعات: آنسواور 3 مزید