Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جدائی پر 20 منتخب اشعار

معشوق کا فراق اور اس

سے جدائی عاشق کیلئے تقریبا ایک مستقل کیفیت ہے ۔ وہ عشق میں ایک ایسے ہجر کو گزار رہا ہوتا ہے جس کا کوئی انجام نہیں ہوتا ۔ یہ تصور اردو کی کلاسیکی شاعری کا بہت بنیادی تصور ہے ۔ شاعروں نے ہجر وفراق کی اس کہانی کو بہت طول دیا ہے اور نئے نئے مضامین پیدا کئے ہیں ۔ جدائی کے لمحات ہم سب کے اپنے گزارے ہوئے اور جئے ہوئے لمحات ہیں اس لئے ان شعروں میں ہم خود اپنی تلاش کرسکتے ہیں ۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

احمد فراز

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

احمد فراز

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو

تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

منور رانا

تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں

جان بہت شرمندہ ہیں

افتخار عارف

ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا

وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا

انجم رہبر

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے

رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

ہجر ناظم علی خان

اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا

سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

ندا فاضلی

جس کی آنکھوں میں کٹی تھیں صدیاں

اس نے صدیوں کی جدائی دی ہے

گلزار

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا

جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

قتیل شفائی

میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

احمد ندیم قاسمی

مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں

مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں وقت کے احساس کا فرق دکھایا گیا ہے: محبوب کے ساتھ ہوں تو وقت اڑ جاتا ہے، اور دوری میں وہی وقت بھاری ہو کر کھنچ جاتا ہے۔ مہینے اور گھڑیاں دل کی کیفیت کی علامت ہیں۔ مرکزی جذبہ تڑپ ہے جو جدائی کو طویل اور وصال کو مختصر بنا دیتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں وقت کے احساس کا فرق دکھایا گیا ہے: محبوب کے ساتھ ہوں تو وقت اڑ جاتا ہے، اور دوری میں وہی وقت بھاری ہو کر کھنچ جاتا ہے۔ مہینے اور گھڑیاں دل کی کیفیت کی علامت ہیں۔ مرکزی جذبہ تڑپ ہے جو جدائی کو طویل اور وصال کو مختصر بنا دیتی ہے۔

علامہ اقبال

وصل میں رنگ اڑ گیا میرا

کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے ساتھ ہونے پر بھی اس کی رنگت، ہمت اور وقار کمزور ہو گئے۔ جب وصل ہی نے اسے یوں توڑ دیا تو جدائی کا دکھ تو اور بھی جان لیوا ہوگا۔ “منہ دکھانا” میں مقابلہ کرنے اور آبرو برقرار رکھنے کا مفہوم شامل ہے۔ یہ شعر عشق کی تھکن اور آئندہ جدائی کے خوف کو سمیٹ دیتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے ساتھ ہونے پر بھی اس کی رنگت، ہمت اور وقار کمزور ہو گئے۔ جب وصل ہی نے اسے یوں توڑ دیا تو جدائی کا دکھ تو اور بھی جان لیوا ہوگا۔ “منہ دکھانا” میں مقابلہ کرنے اور آبرو برقرار رکھنے کا مفہوم شامل ہے۔ یہ شعر عشق کی تھکن اور آئندہ جدائی کے خوف کو سمیٹ دیتا ہے۔

میر تقی میر

اسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا

بہت اداس ہوئے پھول بیچنے والے

جمال احسانی

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے

تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

ناصر کاظمی

تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد

تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر نے اپنی قسمت کو ایک ایسے تالے سے تشبیہ دی ہے جو خاص حروف ملانے سے کھلتا ہے۔ تالے کا کھلنا دراصل اس کے حصوں کا جدا ہونا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ میری بدقسمتی یہ ہے کہ جونہی محبوب سے 'بات بنتی ہے' (تعلق قائم ہوتا ہے یا وصل کا موقع آتا ہے)، اسی کامیابی کے نتیجے میں فوراً جدائی ہو جاتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر نے اپنی قسمت کو ایک ایسے تالے سے تشبیہ دی ہے جو خاص حروف ملانے سے کھلتا ہے۔ تالے کا کھلنا دراصل اس کے حصوں کا جدا ہونا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ میری بدقسمتی یہ ہے کہ جونہی محبوب سے 'بات بنتی ہے' (تعلق قائم ہوتا ہے یا وصل کا موقع آتا ہے)، اسی کامیابی کے نتیجے میں فوراً جدائی ہو جاتی ہے۔

مرزا غالب

لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو

نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے

انور شعور

خود چلے آؤ یا بلا بھیجو

رات اکیلے بسر نہیں ہوتی

مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی

چمکتے چاند سے چہروں کے منظر سے نکل آئے

خدا حافظ کہا بوسہ لیا گھر سے نکل آئے

فضیل جعفری

خشک خشک سی پلکیں اور سوکھ جاتی ہیں

میں تری جدائی میں اس طرح بھی روتا ہوں

احمد راہی
بولیے