آئینہ پر 20 منتخب اشعار
آئینے کو موضوع بنانے
والی یہ شاعری پہلے ہی مرحلے میں آپ کو حیران کر دے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ صرف چہرہ دیکھنے کے لئے استعمال کیا جانے والا آئینہ شاعری میں آکر معنی کتنی وسیع اور رنگا رنگ دنیا تک پہنچنے کا ذریعہ بن گیا اور محبوب سے جڑے ہوئے موضوعات کے بیان میں اس کی علامتی حیثیت کتنی اہم ہوگئی ہے ۔یقیناً آپ آج آئینہ کے سامنے نہیں بلکہ اس شاعری کے سامنے حیران ہوں گے جو آئینہ کو موضوع بناتی ہے ۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب محبوب کے حسن کی یکتائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اگر تمہیں اپنے جیسا کوئی دیکھنا ہے تو اس کا واحد حل آئینہ ہے، کیونکہ تمہاری برابری صرف تمہارا عکس ہی کر سکتا ہے اور یہ منظر خود میں ایک تماشا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب محبوب کے حسن کی یکتائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اگر تمہیں اپنے جیسا کوئی دیکھنا ہے تو اس کا واحد حل آئینہ ہے، کیونکہ تمہاری برابری صرف تمہارا عکس ہی کر سکتا ہے اور یہ منظر خود میں ایک تماشا ہے۔
-
موضوعات: آئینہاور 2 مزید
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غرور پر چوٹ ہے: آئینہ حقیقت دکھاتا ہے اور آدمی کی بناوٹ اتر جاتی ہے۔ جس شخص کو اس بات کا زعم تھا کہ وہ محبت سے بچا رہے گا، وہ اپنے ہی معمولی پن سے دوچار ہو جاتا ہے۔ یہاں آئینہ خود شناسی کی علامت ہے اور انجام شرمندگی۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غرور پر چوٹ ہے: آئینہ حقیقت دکھاتا ہے اور آدمی کی بناوٹ اتر جاتی ہے۔ جس شخص کو اس بات کا زعم تھا کہ وہ محبت سے بچا رہے گا، وہ اپنے ہی معمولی پن سے دوچار ہو جاتا ہے۔ یہاں آئینہ خود شناسی کی علامت ہے اور انجام شرمندگی۔
-
موضوع: آئینہ
کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید
آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں
-
موضوعات: آئینہاور 1 مزید
دیکھنا اچھا نہیں زانو پہ رکھ کر آئنہ
دونوں نازک ہیں نہ رکھیو آئنے پر آئنہ
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں بظاہر آداب اور احتیاط سکھائی گئی ہے کہ آئینہ بھی نازک ہے اور زانو بھی سہارا دے کر چوٹ کھا سکتا ہے۔ باطن میں آئینہ محبوب کے چہرے اور اپنی خودی/خودنمائی کی علامت بن جاتا ہے جو ذرا سی ٹھوکر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ داغؔ کا اشارہ یہ ہے کہ ناز اور انا کو نازکی سے برتو، ورنہ رشتے اور دل کے آئینے میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں بظاہر آداب اور احتیاط سکھائی گئی ہے کہ آئینہ بھی نازک ہے اور زانو بھی سہارا دے کر چوٹ کھا سکتا ہے۔ باطن میں آئینہ محبوب کے چہرے اور اپنی خودی/خودنمائی کی علامت بن جاتا ہے جو ذرا سی ٹھوکر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ داغؔ کا اشارہ یہ ہے کہ ناز اور انا کو نازکی سے برتو، ورنہ رشتے اور دل کے آئینے میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔
پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں
پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو
-
موضوعات: آئینہاور 1 مزید
نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو
تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا
-
موضوعات: آئینہاور 1 مزید