حسن پر اشعار
ہم حسن کو دیکھ سکتے
ہیں ،محسوس کرسکتے ہیں اس سے لطف اٹھا سکتے ہیں لیکن اس کا بیان آسان نہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب حسن دیکھ کر پیدا ہونے والے آپ کے احساسات کی تصویر گری ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ شاعروں نے کتنے اچھوتے اور نئے نئے ڈھنگ سے حسن اور اس کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ۔ ہمارا یہ انتخاب آپ کو حسن کو ایک بڑے اور کشادہ کینوس پر دیکھنے کا اہل بھی بنائے گا ۔ آپ اسے پڑھئے اور حسن پرستوں میں عام کیجئے ۔
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر بیرونی منظر اور اندرونی کیفیت کو ایک کر دیتا ہے: دھواں دھواں شام دل کی دھند اور بوجھل پن کی علامت ہے۔ “حسن” کا اداس ہونا بتاتا ہے کہ دل کو خوشی دینے والی چیزیں بھی بے رنگ لگ رہی ہیں۔ اسی عالم میں بہت سی ادھوری یادیں/کہانیاں دل میں جاگتی ہیں اور رخصت نہیں ہوتیں، بس ایک خاموش کسک بن کر رہ جاتی ہیں۔
-
موضوعات : اداسیاور 4 مزید
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
-
موضوع : چاند
تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو
تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے
نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے
محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
-
موضوعات : تصویراور 1 مزید
آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے
آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر آئینے کے سامنے حسن و آرائش کرنے والوں کی بات کو اپنے حق میں ایک طنزیہ دعوے میں بدل دیتا ہے۔ مطلب یہ کہ میری شان اور دلکشی ایسی ہے کہ جو لوگ مجھے گرانا یا مروا دینا چاہتے ہیں، وہی حسد اور جھنجھلاہٹ میں اندر سے ٹوٹ جائیں گے۔ “بے موت مرنا” یہاں حسرت و حسد سے جلنے کا استعارہ ہے۔ لہجہ فخر آمیز اور چبھتا ہوا ہے۔
کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں
شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر
اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے
اسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے
-
موضوعات : خدااور 2 مزید
حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے
پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں شاعر کائنات کی بڑی بڑی خوبصورتیوں—پھولوں اور آسمانی اجسام—کا ذکر کرکے بتاتا ہے کہ حسن تو بہت ہے، مگر دل کی ترجیح صرف محبوب ہے۔ یہاں شمس و قمر اور گل و پھول مختلف درجوں کے حسن کی علامت ہیں۔ جذبہ یہ ہے کہ دنیا کی ہر دلکشی کے باوجود محبوب کی کشش سب پر بھاری ہے۔
-
موضوعات : استقبالاور 1 مزید
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن
زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں
عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے ہاں حجاب اس رکاوٹ کا استعارہ ہے جو عاشق اور معشوق/حقیقت کے بیچ آ جاتی ہے۔ جب عشق بھی دب جائے اور حسن بھی چھپ جائے تو ملاقات ممکن نہیں رہتی۔ شاعر کی التجا ہے کہ یا تو حقیقت خود جلوہ گر ہو، یا اندر کے پردے ہٹا کر مجھے خود اپنے آپ پر آشکار کر دے۔ اس میں اضطراب، طلب اور خودشناسی کی پیاس نمایاں ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا
تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا
کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے
حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
تم حسن کی خود اک دنیا ہو شاید یہ تمہیں معلوم نہیں
محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے
-
موضوع : محبوب
اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں
-
موضوع : بدن
تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے
ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے
-
موضوع : دوستی
جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم
اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا
-
موضوع : محبوب
عجب تیری ہے اے محبوب صورت
نظر سے گر گئے سب خوب صورت
کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
-
موضوع : عشق
الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
محبوب اپنے حسن کے مقابل شمع رکھ کر عاشق کی کشش کو آزمانا چاہتا ہے۔ شمع ایک دوسری روشنی ہے اور پروانہ عاشق کی علامت، جو آگ اور حسن دونوں کی طرف بےاختیار کھنچتا ہے۔ اس شوخی میں ناز اور ہلکی سی غیرت بھی ہے کہ دل کس طرف جھکتا ہے۔ شعر میں کشش، امتحان اور سپردگی کا لطیف احساس ابھرتا ہے۔
جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریں
عید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی
تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے
تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے
-
موضوع : صورت
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر ایک تلخ سچ کہتا ہے کہ مکمل وفا اور کامل وابستگی عمر بھر کم ہی نصیب ہوتی ہے۔ حسن و عشق کو فریب کہہ کر وہ ان کی جھوٹی تسکین اور عارضی وعدوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مگر “پھر بھی” بار بار آ کر بتاتا ہے کہ جانتے ہوئے بھی دل امید اور کشش سے باز نہیں آتا۔ یہی کشمکش اس شعر کی جذباتی جان ہے۔
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیں
وہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں
کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو
کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں
-
موضوع : مشہور اشعار
ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کو وصال کے بعد آئینہ دیکھنے کو کہتا ہے تاکہ تبدیلی خود سامنے آ جائے۔ آئینہ یہاں گواہی اور خود نظر آنے کی علامت ہے، اور “دوشیزگی” حُسن کی نازک، معصوم سی تازگی کو ظاہر کرتی ہے۔ جذباتی طور پر یہ شعر حیرت اور محبت کے ساتھ بتاتا ہے کہ قربت کے بعد بھی حسن کم نہیں ہوتا بلکہ اور سنور جاتا ہے۔
-
موضوعات : آئینہاور 2 مزید
نہ پاک ہوگا کبھی حسن و عشق کا جھگڑا
وہ قصہ ہے یہ کہ جس کا کوئی گواہ نہیں
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
تجھ سا کوئی جہان میں نازک بدن کہاں
یہ پنکھڑی سے ہونٹ یہ گل سا بدن کہاں
نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
-
موضوعات : محبوباور 2 مزید
حسن کو شرمسار کرنا ہی
عشق کا انتقام ہوتا ہے
-
موضوعات : انتقاماور 2 مزید
حسن اک دل ربا حکومت ہے
عشق اک قدرتی غلامی ہے
حسن آفت نہیں تو پھر کیا ہے
تو قیامت نہیں تو پھر کیا ہے
ہم اپنا عشق چمکائیں تم اپنا حسن چمکاؤ
کہ حیراں دیکھ کر عالم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق محبوب سے کہتا ہے کہ آؤ عشق اور حسن دونوں اپنی پوری آب و تاب سے نمایاں کریں۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی دلکشی اور سچّا جذبہ ایسا اثر ڈالے کہ دنیا دنگ رہ جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ اس جلوے کی حیرت و سرشاری دونوں کے دل میں یکساں اترے۔
-
موضوع : عشق
اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا
زمانہ حسن نزاکت بلا جفا شوخی
سمٹ کے آ گئے سب آپ کی اداؤں میں
چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے
چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
جتنا دیکھو اسے تھکتی نہیں آنکھیں ورنہ
ختم ہو جاتا ہے ہر حسن کہانی کی طرح
میری نگاہ شوق بھی کچھ کم نہیں مگر
پھر بھی ترا شباب ترا ہی شباب ہے
-
موضوعات : محبوباور 1 مزید
حسن یہ ہے کہ دل ربا ہو تم
عیب یہ ہے کہ بے وفا ہو تم
حسن یوں عشق سے ناراض ہے اب
پھول خوشبو سے خفا ہو جیسے
-
موضوعات : خفااور 1 مزید