Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دعا پر 20 منتخب اشعار

اردو شاعری کا ایک کمال

یہ بھی ہے کہ اس میں بہت سی ایسی لفظیات جو خالص مذہبی تناظر سے جڑی ہوئی تھیں نئے رنگ اور روپ کے ساتھ برتی گئی ہیں اور اس برتاؤ میں ان کے سابقہ تناظر کی سنجیدگی کی جگہ شگفتگی ، کھلے پن ، اور ذرا سی بذلہ سنجی نے لے لی ہے ۔ دعا کا لفظ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے ۔ آپ اس انتخاب میں دیکھیں گے کہ کس طرح ایک عاشق معشوق کے وصال کی دعائیں کرتا ہے ، اس کی دعائیں کس طرح بے اثر ہیں ۔ کبھی وہ عشق سے تنگ آکر ترک عشق کی دعا کرتا ہے لیکن جب دل ہی نہ چاہے تو دعا میں اثر کہاں ۔ اس طرح کی اور بہت سی پرلطف صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے

جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

جلیل مانک پوری

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

افتخار عارف

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے

نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں ذوقؔ محبت کی وارفتگی اور محویت کو بیان کرتے ہیں کہ عشق انسان کو ہر تدبیر سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کی یاد میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے اپنی بیماری کے علاج کے لیے نہ ظاہری اسباب (دوا) کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی وہ روحانی سہارے (دعا) کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں ذوقؔ محبت کی وارفتگی اور محویت کو بیان کرتے ہیں کہ عشق انسان کو ہر تدبیر سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کی یاد میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے اپنی بیماری کے علاج کے لیے نہ ظاہری اسباب (دوا) کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی وہ روحانی سہارے (دعا) کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

مجھے زندگی کی دعا دینے والے

ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

گوپال متل

میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی

ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے

احمد فراز

دعا کرو کہ میں اس کے لیے دعا ہو جاؤں

وہ ایک شخص جو دل کو دعا سا لگتا ہے

عبید اللہ علیم

ہوتی نہیں قبول دعا ترک عشق کی

دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

الطاف حسین حالی

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

حفیظ جالندھری

مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

امیر مینائی

ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل

دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں کہا گیا ہے کہ صرف بار بار مانگنے سے بات نہیں بنتی۔ دعا کی تاثیر تعداد میں نہیں بلکہ اخلاص میں ہے؛ وہی دعا سچی ہے جو بناوٹ کے بغیر دل سے اٹھے۔ یہاں دل کو معیارِ صداقت بنایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ عبادت اور طلب میں سچّا جذبہ ضروری ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں کہا گیا ہے کہ صرف بار بار مانگنے سے بات نہیں بنتی۔ دعا کی تاثیر تعداد میں نہیں بلکہ اخلاص میں ہے؛ وہی دعا سچی ہے جو بناوٹ کے بغیر دل سے اٹھے۔ یہاں دل کو معیارِ صداقت بنایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ عبادت اور طلب میں سچّا جذبہ ضروری ہے۔

داغؔ دہلوی

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

Interpretation: Rekhta AI

شاعر ایک تلخ طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ جب دعا کا اثر اکثر الٹا نکلتا ہے تو بہتر ہے ہجر ہی مانگ لیا جائے۔ یہاں “دشمنی” سے مراد یہ احساس ہے کہ تقدیر/قبولیت انسان کی مراد کے خلاف جا کھڑی ہوتی ہے۔ مرکزی کیفیت بے بسی اور دل شکستگی ہے جسے شاعر الٹی دعا کی صورت میں بیان کرتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر ایک تلخ طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ جب دعا کا اثر اکثر الٹا نکلتا ہے تو بہتر ہے ہجر ہی مانگ لیا جائے۔ یہاں “دشمنی” سے مراد یہ احساس ہے کہ تقدیر/قبولیت انسان کی مراد کے خلاف جا کھڑی ہوتی ہے۔ مرکزی کیفیت بے بسی اور دل شکستگی ہے جسے شاعر الٹی دعا کی صورت میں بیان کرتا ہے۔

مومن خاں مومن

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں

سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

افتخار عارف

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی

شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

نامعلوم

میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت

جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

افتخار عارف

باقی ہی کیا رہا ہے تجھے مانگنے کے بعد

بس اک دعا میں چھوٹ گئے ہر دعا سے ہم

عامر عثمانی

نہ چارہ گر کی ضرورت نہ کچھ دوا کی ہے

دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

راجیندر کرشن

دشمن جاں ہی سہی دوست سمجھتا ہوں اسے

بد دعا جس کی مجھے بن کے دعا لگتی ہے

مرتضیٰ برلاس

ابھی دلوں کی طنابوں میں سختیاں ہیں بہت

ابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا

آفتاب حسین

دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی

ان درختوں کی دعا لینے سے

کاشف حسین غائر
بولیے