Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عشق پر اشعار

عشق اور رومان پر یہ

شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

فیض احمد فیض

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

عشق نے غالب کو کسی کام کا نہیں چھوڑا، بالکل ناکارہ بنا دیا ہے۔

ورنہ اس سے پہلے ہم بھی ایک باصلاحیت اور کارآمد انسان تھے۔

اس شعر میں شاعر عشق کی تباہ کاریوں کا ذکر ہلکے پھلکے انداز میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ محبت کی دیوانگی نے اسے دنیا کے کام دھندوں سے بیگانہ کر دیا ہے، ورنہ وہ بھی ایک زمانے میں بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔

مرزا غالب

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

جگر مراد آبادی

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

احمد فراز

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

راحت اندوری

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

محبت میں جینا اور مرنا ایک ہی بات لگتی ہے، ان میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

ہم اسی محبوب کو دیکھ کر جیتے رہتے ہیں جس ظالم پر نظر پڑے تو دم نکل جائے۔

اس شعر میں عاشق کہتا ہے کہ عشق کی شدت میں حیات و موت کی سرحد مٹ جاتی ہے۔ محبوب کا دیدار ہی زندگی کا سہارا ہے، مگر وہی محبوب اپنی بےرحمی یا بےنیازی سے قاتل بھی ہے۔ یوں عاشق ایک ہی نظر سے جیتا بھی ہے اور مر بھی جاتا ہے—یہی عشق کی بےبسی اور وارفتگی ہے۔

مرزا غالب

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

Rekhta AI Explanation

اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔

بشیر بدر

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے

عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

ندا فاضلی

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

پروین شاکر

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

عبید اللہ علیم

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفی زیدی

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

بڑی آرزو تھی ملاقات کی

بشیر بدر

ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں

اور ستم یہ کہ ہم تمہارے ہیں

جون ایلیا

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے

آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

فیض احمد فیض

زندگی کس طرح بسر ہوگی

دل نہیں لگ رہا محبت میں

جون ایلیا

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

عشق پر کسی کا زور نہیں چلتا، اسے نہ جبر سے لایا جا سکتا ہے نہ روکا جا سکتا ہے۔

غالبؔ کہتے ہیں یہ ایسی آگ ہے جو نہ چاہو تو بھی لگ جائے، اور لگ جائے تو بجھتی نہیں۔

اس شعر میں عشق کو ایک بے قابو آگ کہا گیا ہے جو انسان کی مرضی کے تابع نہیں۔ نہ آدمی اسے اپنے اختیار سے پیدا کر سکتا ہے، نہ اس کے بھڑک اٹھنے کے بعد اسے آسانی سے بجھا سکتا ہے۔ اصل کیفیت بے بسی اور عشق کی جلانے والی شدت ہے۔

مرزا غالب

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم

کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی

احمد فراز

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

عشق نازک مزاج ہے بے حد

عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

اکبر الہ آبادی

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

احمد فراز

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

ناصر کاظمی

آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے

آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے

گلزار

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

غلام محمد قاصر

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

شکیل بدایونی

ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے

ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

قتیل شفائی

گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی

وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ

باصر سلطان کاظمی

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

اگر کوئی واقعی سمجھنے والا ہو تو میں ایک بات کہہ دوں۔

عشق گناہ نہیں، اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔

فراق گورکھپوری

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

میر طاہر علی رضوی

دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

فیض احمد فیض

ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو

کیا ہوا آج یہ کس بات پہ رونا آیا

ساحر لدھیانوی

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں

مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

میں تمہارے عشق کی آخری حد تک پہنچنا چاہتا ہوں۔

ذرا میری سادگی دیکھو کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔

اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔

علامہ اقبال

غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں

میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا

ساحر لدھیانوی

کیا کہا عشق جاودانی ہے!

آخری بار مل رہی ہو کیا

جون ایلیا

تیرا ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

ساحر لدھیانوی

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

امیر مینائی

تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا

مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

بشیر بدر

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو

تم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کرو

منور رانا

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد

آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے

تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا

جون ایلیا

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا

گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں

فیض احمد فیض

میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا

سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے

کرشن بہاری نور

محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا

اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

بشیر بدر

انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی

مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی

نشور واحدی

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

عشق کی بدولت میری طبیعت کو زندگی کا حقیقی لطف اور مزا نصیب ہوا۔

مجھے زندگی کے غم کا علاج تو مل گیا، مگر بدلے میں ایسا درد ملا جس کی کوئی دوا نہیں۔

مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عشق سے پہلے زندگی بے کیف تھی، محبت نے ہی جینے کا سلیقہ سکھایا۔ عشق بظاہر دنیا کے رنج و غم کا مداوا ہے، لیکن یہ خود ایک ایسا مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ گویا یہ درد بھی ہے اور درد کی دوا بھی۔

مرزا غالب

خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے

بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

بشیر بدر

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا

بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

پروین شاکر

نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سے

محبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے

عادل فاروقی

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم

قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

خمار بارہ بنکوی
بولیے