Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آواز پر اشعار

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

منیر نیازی

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

منیر نیازی

لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے

جی چاہتا ہے میں تری آواز چوم لوں

بشیر بدر

لہجہ کہ جیسے صبح کی خوشبو اذان دے

جی چاہتا ہے میں تری آواز چوم لوں

بشیر بدر

وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں

طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا

وزیر آغا

وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں

طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا

وزیر آغا

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

مومن خاں مومن

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

مومن خاں مومن

صبر پر دل کو تو آمادہ کیا ہے لیکن

ہوش اڑ جاتے ہیں اب بھی تری آواز کے ساتھ

آسی الدنی

صبر پر دل کو تو آمادہ کیا ہے لیکن

ہوش اڑ جاتے ہیں اب بھی تری آواز کے ساتھ

آسی الدنی

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے

خموشی بھی ہے یہ آواز بھی ہے

عرش ملسیانی

محبت سوز بھی ہے ساز بھی ہے

خموشی بھی ہے یہ آواز بھی ہے

عرش ملسیانی

خدا کی اس کے گلے میں عجیب قدرت ہے

وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

بشیر بدر

خدا کی اس کے گلے میں عجیب قدرت ہے

وہ بولتا ہے تو اک روشنی سی ہوتی ہے

بشیر بدر

موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی

زندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو

احمد مشتاق

موت خاموشی ہے چپ رہنے سے چپ لگ جائے گی

زندگی آواز ہے باتیں کرو باتیں کرو

احمد مشتاق

بولتے رہنا کیونکہ تمہاری باتوں سے

لفظوں کا یہ بہتا دریا اچھا لگتا ہے

نامعلوم

بولتے رہنا کیونکہ تمہاری باتوں سے

لفظوں کا یہ بہتا دریا اچھا لگتا ہے

نامعلوم

چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر

اب تو بس آواز ہی آواز ہے

اسرار الحق مجاز

چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر

اب تو بس آواز ہی آواز ہے

اسرار الحق مجاز

گم رہا ہوں ترے خیالوں میں

تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے

احمد مشتاق

گم رہا ہوں ترے خیالوں میں

تجھ کو آواز عمر بھر دی ہے

احمد مشتاق

کوئی آیا تری جھلک دیکھی

کوئی بولا سنی تری آواز

جوش ملیح آبادی

کوئی آیا تری جھلک دیکھی

کوئی بولا سنی تری آواز

جوش ملیح آبادی

تفریق حسن و عشق کے انداز میں نہ ہو

لفظوں میں فرق ہو مگر آواز میں نہ ہو

منظر لکھنوی

تفریق حسن و عشق کے انداز میں نہ ہو

لفظوں میں فرق ہو مگر آواز میں نہ ہو

منظر لکھنوی

دھیمے سروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑئیے

ٹھہری ہوئی ہواؤں میں جادو بکھیریے

پروین شاکر

دھیمے سروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑئیے

ٹھہری ہوئی ہواؤں میں جادو بکھیریے

پروین شاکر

پھول کی خوشبو ہوا کی چاپ شیشہ کی کھنک

کون سی شے ہے جو تیری خوش بیانی میں نہیں

نامعلوم

پھول کی خوشبو ہوا کی چاپ شیشہ کی کھنک

کون سی شے ہے جو تیری خوش بیانی میں نہیں

نامعلوم

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز

اسی خانہ خراب کی سی ہے

میر تقی میر

میں جو بولا کہا کہ یہ آواز

اسی خانہ خراب کی سی ہے

میر تقی میر

لے میں ڈوبی ہوئی مستی بھری آواز کے ساتھ

چھیڑ دے کوئی غزل اک نئے انداز کے ساتھ

نامعلوم

لے میں ڈوبی ہوئی مستی بھری آواز کے ساتھ

چھیڑ دے کوئی غزل اک نئے انداز کے ساتھ

نامعلوم

تری آواز کو اس شہر کی لہریں ترستی ہیں

غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے

غلام محمد قاصر

تری آواز کو اس شہر کی لہریں ترستی ہیں

غلط نمبر ملاتا ہوں تو پہروں بات ہوتی ہے

غلام محمد قاصر

چراغ جلتے ہیں باد صبا مہکتی ہے

تمہارے حسن تکلم سے کیا نہیں ہوتا

حامد محبوب

چراغ جلتے ہیں باد صبا مہکتی ہے

تمہارے حسن تکلم سے کیا نہیں ہوتا

حامد محبوب

ہاتھ جس کو لگا نہیں سکتا

اس کو آواز تو لگانے دو

عمار اقبال

ہاتھ جس کو لگا نہیں سکتا

اس کو آواز تو لگانے دو

عمار اقبال

مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے

میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں

اصغر گونڈوی

مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے

میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں

اصغر گونڈوی

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے

وزیر آغا

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے

وزیر آغا

خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں

کوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے

امیر امام

خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیں

کوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے

امیر امام

میری یہ آرزو ہے وقت مرگ

اس کی آواز کان میں آوے

غمگین دہلوی

میری یہ آرزو ہے وقت مرگ

اس کی آواز کان میں آوے

غمگین دہلوی

کھنک جاتے ہیں جب ساغر تو پہروں کان بجتے ہیں

ارے توبہ بڑی توبہ شکن آواز ہوتی ہے

نامعلوم

کھنک جاتے ہیں جب ساغر تو پہروں کان بجتے ہیں

ارے توبہ بڑی توبہ شکن آواز ہوتی ہے

نامعلوم
بولیے