دنیا پر اشعار
دنیا کو ہم سب نے اپنی
اپنی آنکھ سے دیکھا اور برتا ہے اس عمل میں بہت کچھ ہمارا اپنا ہے جو کسی اور کا نہیں اور بہت کچھ ہم سے چھوٹ گیا ہے ۔ دنیا کو موضوع بنانے والے اس خوبصورت شعری انتخاب کو پڑھ کر آپ دنیا سے وابستہ ایسے اسرار سے واقف ہوں گے جن تک رسائی صرف تخلیقی اذہان ہی کا مقدر ہے ۔ ان اشعار کو پڑھ کر آپ دنیا کو ایک بڑے سیاق میں دیکھنے کے اہل ہوں گے ۔
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر دنیاوی محفلوں کی چمک دمک سے بیزاری کا شکوہ خدا سے کرتا ہے۔ محفل و انجمن بیرونی رنگینی کی علامت ہیں، اور “دل کا بجھ جانا” اندر کی حرارت، شوق اور معنی کے ختم ہو جانے کا استعارہ ہے۔ جب اندر چراغ نہ رہے تو باہر کی رونق بھی بے لطف لگتی ہے۔ اس میں دل شکستگی کے ساتھ سچی طلب اور روحانی بیداری کی آرزو چھپی ہے۔
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
-
موضوع : زندگی
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب دنیا کو “بازیچۂ اطفال” کہہ کر اسے بےمعنی اور ہلکا ثابت کرتے ہیں، جیسے بچوں کا کھیل جس میں گہرائی کم ہو۔ “شب و روز” کی گردش ایک نہ ختم ہونے والے اسٹیج ڈرامے کی طرح لگتی ہے جسے شاعر محض دیکھ رہا ہے۔ جذبہ بیزاری اور بےتعلقی کا ہے: زندگی کی سنجیدگی چھن کر محض تماشہ رہ جاتی ہے۔
-
موضوع : ایٹی ٹیوڈ
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
-
موضوع : بے ثباتی
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
-
موضوعات : شراباور 1 مزید
چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے
نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
-
موضوعات : بہانہاور 1 مزید
گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا
گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا
تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
-
موضوع : زلف
دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں
دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل
-
موضوعات : فاصلہاور 1 مزید
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
-
موضوع : تمنا
غم زمانہ نے مجبور کر دیا ورنہ
یہ آرزو تھی کہ بس تیری آرزو کرتے
-
موضوع : آرزو
تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ
دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا
جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
اک نظر کا فسانہ ہے دنیا
سو کہانی ہے اک کہانی سے
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے
آدمی آدمی اکیلا ہے
یہ دنیا غم تو دیتی ہے شریک غم نہیں ہوتی
کسی کے دور جانے سے محبت کم نہیں ہوتی
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی
-
موضوعات : ایٹی ٹیوڈاور 2 مزید
بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے
Interpretation:
Rekhta AI
شیخ ابراہیم ذوقؔ اس شعر میں انسانی فطرت کی مجبوری بیان کر رہے ہیں۔ اگرچہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ فانی دنیا سے دل نہ لگایا جائے، مگر عملی طور پر جینے کے لیے کچھ نہ کچھ دلچسپی اور لگاؤ ضروری ہے۔ انسان نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا کے میلے میں کھو جانے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے بغیر زندگی بے کیف ہو جاتی ہے۔
-
موضوعات : دلاور 1 مزید
ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت
پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے
-
موضوع : دل
پاؤں جب سمٹے تو رستے بھی ہوئے تکیہ نشیں
بوریا جب تہ کیا دنیا اٹھا کر لے گئے
لمحے اداس اداس فضائیں گھٹی گھٹی
دنیا اگر یہی ہے تو دنیا سے بچ کے چل
دنیا بس اس سے اور زیادہ نہیں ہے کچھ
کچھ روز ہیں گزارنے اور کچھ گزر گئے
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہو جائیں
کہ اس کے بعد یہ دنیا کہاں سے لاؤں گا میں
دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی
-
موضوعات : خواباور 1 مزید
گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا
ایک ہی رنگ ہے دنیا کو جدھر سے دیکھا
-
موضوع : گاؤں
دنیا مرے پڑوس میں آباد ہے مگر
میری دعا سلام نہیں اس ذلیل سے
دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیں
بستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیں
دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آخرت کے سفر میں کوئی دنیاوی تعلق کام نہیں آتا۔ چونکہ انجام تنہائی ہے، اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ حالات سے لڑنے یا شکایت کرنے کے بجائے خاموشی سے زندگی گزارتا رہے جب تک کہ موت نہ آ جائے۔
دنیا پسند آنے لگی دل کو اب بہت
سمجھو کہ اب یہ باغ بھی مرجھانے والا ہے
-
موضوع : دل
پھر سے خدا بنائے گا کوئی نیا جہاں
دنیا کو یوں مٹائے گی اکیسویں صدی
مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی
دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر آسان الزام تراشی کو رد کرتا ہے کہ دنیا کی خرابی مذہب یا اخلاق سے ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دکھوں کی جڑ کہیں اور ہے—یعنی وہ پوشیدہ محرکات جو لوگ ماننا نہیں چاہتے، جیسے مفاد، طاقت کی ہوس یا ریاکاری۔ لہجہ سنجیدہ اور تنقیدی ہے، اور مقصد حقیقت پسندانہ تشخیص ہے۔
-
موضوع : مذہب
کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت
کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا
-
موضوع : موت
مجھ پہ ہو کر گزر گئی دنیا
میں تری راہ سے ہٹا ہی نہیں
دیکھو دنیا ہے دل ہے
اپنی اپنی منزل ہے
یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
یہ محشر خیال کہ دنیا کہیں جسے
Interpretation:
Rekhta AI
غالب دعا کے انداز میں دنیا سے نجات مانگتے ہیں، یہاں تک کہ خواب میں بھی۔ دنیا کو وہ خارجی حقیقت نہیں، بلکہ باطن میں اٹھنے والی فکروں اور خواہشوں کی قیامت قرار دیتے ہیں۔ “محشرِ خیال” سے مراد ذہن کا ہنگامہ ہے جو آدمی کو چین نہیں لینے دیتا۔ بنیادی جذبہ تھکن، خوف اور سکون کی طلب ہے۔
-
موضوع : خواب
یہ کائنات مرے سامنے ہے مثل بساط
کہیں جنوں میں الٹ دوں نہ اس جہان کو میں
-
موضوع : بساط
معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ
ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ
دنیا تو ہے دنیا کہ وہ دشمن ہے سدا کی
سو بار ترے عشق میں ہم خود سے لڑے ہیں
اے غم دنیا تجھے کیا علم تیرے واسطے
کن بہانوں سے طبیعت راہ پر لائی گئی
-
موضوع : غم
امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں
-
موضوع : امید
جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز
واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی
-
موضوعات : خفااور 2 مزید