تصویر پر اشعار
تصویر پر شاعری معانی
وموضوعات کے بہت سے علاقوں کو گھیرے ہوئے ہے ۔ تصویر کو اس کی خوبصورتی، خاموشی، تأثرات کی عدم تبدیلی اور بہت سی جہتوں کے حوالے سے شاعری میں استعمال کیا گیا ہے ۔ تصویر مہربان بھی ہے اور نامہربان بھی ۔ ایک طرف تو وہ کسی اصلی چہرے کا بدل ہے دوسری طرف اس میں دیکھنے والے کی تمام تر دلچسپی اور توجہ کے باوجود کسی قسم کا کوئی رد عمل نہیں ہے ۔ اس لئے تصویر دور ہونے اور قریب ہونے کے بیچ ایک عجیب کشمکش پیدا کرتی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے۔
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت
ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
-
موضوعات : حسناور 1 مزید
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے
ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں
اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے
مرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے
-
موضوعات : روماناور 1 مزید
زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے
میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق
تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر تنہائی میں شبِ فراق کے دوران ایک بےجان تصویر سے مخاطب ہے، مگر اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سن بھی رہی ہو۔ شبِ فراق کو خاموش سامع بنا کر اور تصویرِ یار کو ہمراز ٹھہرا کر وہ اپنی تڑپ ظاہر کرتا ہے۔ یہ محبوب کی غیرموجودگی میں یاد اور وہم کے سہارے جینے کی کیفیت ہے۔
رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا
اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا
ایک کمی تھی تاج محل میں
میں نے تری تصویر لگا دی
-
موضوعات : تاج محلاور 4 مزید
مجھ کو اکثر اداس کرتی ہے
ایک تصویر مسکراتی ہوئی
-
موضوع : واٹس ایپ
جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر
وہ تصویر باتیں بنانے لگی
اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی
EXPLANATION #1
اس شعر میں وارداتِ عشق کو عقل اور جنوں کے پیمانوں میں تولنے کا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ عشق کے معاملے میں عقل اور جنوں کی کشمکش ازلی ہے۔ جہاں عقل عشق کو انسانی حیات کے لئے ایک وجہِ زیاں مانتی ہے وہیں جنوں عشق کو انسانی حیات کا لبِ لباب مانتی ہے۔ اور اگر عشق میں جنوں پر عقل غالب آگئی تو عشق عشق نہیں رہتا ۔ کیونکہ عشق کی اولین شرط جنوں ہے۔ اور جنوں کی آماجگاہ دل ہے۔ اس لئے اگر عاشق دل کے بجائے عقل کی سنے تو وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔
شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر مجنوں ہوگیا ہوں کہ اسے بھلانے کے لئے عقل نے ایک بار ٹھان لی تھی مگر میرے جنونِ عشق نے مجھے سو بار اپنے محبوب کی تصویر دکھا دی۔ ’تصویر دکھا‘ بھی خوب ہے۔ کیونکہ جنوں کی کیفیت میں انسان ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے جب اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو اگر چہ وہاں موجود نہیں ہوتی ہیں مگر اس نوع کے جنوں میں مبتلا انسان انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ شعر اپنی کیفیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔
شفق سوپوری
-
موضوع : مشہور اشعار
میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں
دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی
اپنی تصویر بناؤ گے تو ہوگا احساس
کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا
بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔ
آپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیے
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر دِلّی کی ایسی ویرانی دکھاتے ہیں کہ شہر جیتا جاگتا محسوس نہیں ہوتا۔ کوچے “اوراقِ مصور” بن گئے ہیں، یعنی زندگی کے بجائے صرف نقش و نگار رہ گئے۔ ہر منظر تصویر کی طرح ساکن اور بے جان دکھائی دیتا ہے۔ اس میں نقصان، یادِ ماضی اور دل کی ٹوٹ پھوٹ کی کیفیت چھپی ہے۔
-
موضوع : دہلی
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی
دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی
رفتہ رفتہ سب تصویریں دھندلی ہونے لگتی ہیں
کتنے چہرے ایک پرانے البم میں مر جاتے ہیں
مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذ
ساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے
رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے
ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں
-
موضوعات : خاموشیاور 1 مزید
سوچتا ہوں تری تصویر دکھا دوں اس کو
روشنی نے کبھی سایہ نہیں دیکھا اپنا
اک محبت کی یہ تصویر ہے دو رنگوں میں
شوق سب میرا ہے اور ساری حیا اس کی ہے
-
موضوع : محبت
مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے
میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے
لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی
خامشی تیری مری جان لیے لیتی ہے
اپنی تصویر سے باہر تجھے آنا ہوگا
-
موضوع : خاموشی
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی
دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
-
موضوعات : دھوپاور 1 مزید
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا
دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں فن اور محبت دونوں میں جدّت کی بات ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اصل تصویر وہ ہے جو تخیل سے بنے، کیونکہ اس میں اپنی کیفیت اور اندرونی سچائی شامل ہوتی ہے۔ بنی بنائی تصویر کو دیکھ کر ویسی ہی تصویر بنا لینا محض نقل ہے، تخلیق نہیں۔ لہٰذا شعر کا مرکزِ احساس اصالت اور تخلیقی جرأت ہے۔
-
موضوع : تصور
آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا
مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے
-
موضوعات : صورتاور 1 مزید
ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر
جس کی تصویر ہے خیال اپنا
-
موضوع : تصور
کہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھی
میں کسی سے بولنے والی نہیں
تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں
اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے
حرف کو لفظ نہ کر لفظ کو اظہار نہ دے
کوئی تصویر مکمل نہ بنا اس کے لیے
صورت چھپائیے کسی صورت پرست سے
ہم دل میں نقش آپ کی تصویر کر چکے
آتا تھا جس کو دیکھ کے تصویر کا خیال
اب تو وہ کیل بھی مری دیوار میں نہیں
تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر آئینے کو حُسن اور خود شناسی کے استعارے کے طور پر لاتا ہے۔ شاعر شوخی اور حیا کے ساتھ کہتا ہے کہ دیکھنے والے میں تابِ نظارہ نہیں، اس لیے آئینہ دکھانا بھی خطرہ ہے۔ حیرت کا اتنا غلبہ ہوگا کہ انسان جیسے جم کر رہ جائے اور تصویر بن جائے۔ یوں مبالغہ بھی ہے اور حسن کے اثر کی نرمی سے بیان بھی۔
کل تیری تصویر مکمل کی میں نے
فوراً اس پر تتلی آ کر بیٹھ گئی
وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے
اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا
-
موضوع : عیادت
اٹھاؤ کیمرا تصویر کھینچ لو ان کی
اداس لوگ کہاں روز مسکراتے ہیں
پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خواب
ایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی
-
موضوع : خواب
خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد
میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی
تری تصویر تو وعدے کے دن کھنچنے کے قابل ہے
کہ شرمائی ہوئی آنکھیں ہیں گھبرایا ہوا دل ہے
الماری میں تصویریں رکھتا ہوں
اب بچپن اور بڑھاپا ایک ہوئے
روز ہے درد محبت کا نرالا انداز
روز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے
کہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں جان آ جائے
اس لیے ہاتھ میں لیتے مری تصویر نہیں
شہر ہو دشت تمنا ہو کہ دریا کا سفر
تیری تصویر کو سینے سے لگا رکھا ہے
دیکھنا پڑتی ہے خود ہی عکس کی صورت گری
آئنہ کیسے بتائے آئنے میں کون ہے
-
موضوع : آئینہ