دھوکے پر ۲۰ بہترین اشعار
معشوق کی ایک صفت اس
کا فریبی ہونا بھی ہے ۔ وہ ہر معاملے میں دھوکے باز ثابت ہوتا ہے ۔ وصل کا وعدہ کرتا ہے لیکن کبھی وفا نہیں کرتا ہے ۔ یہاں معشوق کے فریب کی مختلف شکلوں کو موضوع بنانے والے کچھ شعروں کا انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں انہیں پڑھئے اور معشوق کی ان چالاکیوں سے لطف اٹھائیے
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں
زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر موت کو نسبتاً صاف اور بےریا سمجھتا ہے کہ وہ ایک بار آتی ہے اور قصہ ختم کر دیتی ہے۔ اصل شکوہ زندگی سے ہے جو امید دلا کر بار بار توڑتی ہے اور وعدوں کے پردے میں فریب پہ فریب کرتی رہتی ہے۔ اس میں کڑواہٹ، مایوسی اور وجودی بےچینی جھلکتی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر موت کو نسبتاً صاف اور بےریا سمجھتا ہے کہ وہ ایک بار آتی ہے اور قصہ ختم کر دیتی ہے۔ اصل شکوہ زندگی سے ہے جو امید دلا کر بار بار توڑتی ہے اور وعدوں کے پردے میں فریب پہ فریب کرتی رہتی ہے۔ اس میں کڑواہٹ، مایوسی اور وجودی بےچینی جھلکتی ہے۔
زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا
میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا
-
موضوعات: تجربہاور 1 مزید
جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے
وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں معصوم آنکھیں ظاہری پاکیزگی کی علامت ہیں مگر انہی کے پردے میں فریب چھپا ہے۔ عاشق مان لیتا ہے کہ اسی معصومانہ ادا نے اسے دھوکا دیا۔ دکھ یہ ہے کہ وہ دھوکا وقتی نہیں رہا بلکہ عمر بھر کی کسک بن گیا۔ لہجہ محبت، ندامت اور دیرپا رنج کا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں معصوم آنکھیں ظاہری پاکیزگی کی علامت ہیں مگر انہی کے پردے میں فریب چھپا ہے۔ عاشق مان لیتا ہے کہ اسی معصومانہ ادا نے اسے دھوکا دیا۔ دکھ یہ ہے کہ وہ دھوکا وقتی نہیں رہا بلکہ عمر بھر کی کسک بن گیا۔ لہجہ محبت، ندامت اور دیرپا رنج کا ہے۔
-
موضوعات: آنکھاور 2 مزید
ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر
یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے
-
موضوعات: بھروسہاور 1 مزید
اس کو بھی میری طرح اپنی وفا پر تھا یقیں
وہ بھی شاید اسی دھوکے میں ملا تھا مجھ کو
-
موضوع: دھوپ
جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے
وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا
-
موضوعات: فریباور 1 مزید