چاند پر 20 منتخب اشعار

چاند کواس کی خوبصورتی

، اس کے روشن نظارے اورمحبوب سے اس کی مشابہت کی وجہ سے کثرت سے شاعری کا موضوع بنایا گیا ہے ۔ شاعروں نے بہت دلچسپ اندازمیں ایسے شعربھی کہے ہیں جن میں چاند اورمحبوب کے حسن کے درمیان مقابلہ آرائی کا عنصرموجود ہے ۔

اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا

آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا

افتخار نسیم

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

ابن انشا

عید کا چاند تم نے دیکھ لیا

چاند کی عید ہو گئی ہوگی

ادریس آزاد

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

اظہر عنایتی

وہ چاند کہہ کے گیا تھا کہ آج نکلے گا

تو انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں شام سے میں

فرحت احساس

چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے

چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

پاؤں ساکت ہو گئے ثروتؔ کسی کو دیکھ کر

اک کشش مہتاب جیسی چہرۂ دل بر میں تھی

ثروت حسین

مجھ کو معلوم ہے محبوب پرستی کا عذاب

دیر سے چاند نکلنا بھی غلط لگتا ہے

احمد کمال پروازی

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

احمد مشتاق

لطف شب مہ اے دل اس دم مجھے حاصل ہو

اک چاند بغل میں ہو اک چاند مقابل ہو

مرزا محمد تقی ہوسؔ

چاند میں تو نظر آیا تھا مجھے

میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا

عبدالرحمان مومن

یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے

بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں

سید یوسف علی خاں ناظم

رسوا کرے گی دیکھ کے دنیا مجھے قمرؔ

اس چاندنی میں ان کو بلانے کو جائے کون

قمر جلالوی

دیکھا ہلال عید تو تم یاد آ گئے

اس محویت میں عید ہماری گزر گئی

نامعلوم

ہم نے اس چہرے کو باندھا نہیں مہتاب مثال

ہم نے مہتاب کو اس رخ کے مماثل باندھا

افتخار مغل

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے